Crocodile tears: On General Javed Zia’s statement on Balochistan

by admin

بلوچستان میں لوگوں کے لاپتہ ہونے اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے


پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جنوبی کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید ضیاء نے کہا ہے کہ صوبے میں لوگوں کی گمشدگی اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا عمل اگر نہ روکا گیا تو اس سے مستقبل میں پاکستان کی سالمیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کاخطرہ ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل جاوید ضیا نے یہ بات جمعرات کو کوئٹہ میں جشن آزادی کے تقریبات کے حوالے سے صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ کے دوران کہی تھی۔

کور کمانڈر بلوچستان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے لاپتہ ہونے اور بعدازاں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کو ’میں ذاتی طور پر ایک مکروہ عمل سمجھتا ہوں اور پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ فوج یا اداروں کی یہ پالیسی ہی نہیں ہے بلکہ کچھ عناصر اس میں فوج اور اداروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس مکروہ اور گندے عمل سے فوج فرنٹیئرکور اور خفیہ اداروں کا کوئی تعلق نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ عمل اگر روکا نہ گیا تو مستقبل میں ملکی سالمیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس لیے اس عمل کو رکنا چاہیے‘۔

لیفٹیننٹ جنرل جاوید ضیاء نے کہا کہ ’بلوچستان میں صوبائی حکومت معاشی و سماجی استحکام کے لیے اگر مری، بگٹی مینگل سمیت کسی بھی ناراض کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے تو فوج اس میں رکاوٹ ہے اور نہ ہی فوج کو اس حوالے سے کوئی اعتراض ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ فاصلے ختم ہوں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ملکی استحکام کے لیے مل جل کر کام کیا جائے‘۔

انہوں نے کہا اس وقت ملک کو جس طرح کے خطرات کا سامنا ہے اس میں قومی یکجہتی اہم ضرورت ہے اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کر کے ہی مستحکم پاکستان کے خواب کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بلوچ ناراض ہیں اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ تریسٹھ سالوں میں بلوچستان کے سماجی مفادات کی نگہداشت نہیں ہو سکی۔

’بلوچ بھائیوں کی ناراضی کا ہمیں احساس ہے لیکن اگر ماضی میں کوئی غلطیاں ہوئی بھی ہیں تو اب وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ان غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور اختلافات کو بالائے طاق رکھا جائے۔ قومیت اور زبان کی بنیاد پر اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن مذہب کی بنیاد پر ہم میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس لیے مذہب کی بنیاد ہمیں اتحاد و یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے‘۔

———

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کے سیاسی حل اور بلوچ قوم پرستوں کو مذاکرات کے عمل کی طرف راغب کرنے کے لیے فوج کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا

مسٹر اختر مینگل نے کہا کہ اگر فوج یہ سمجھتی ہے کہ وہ قوم پرستوں کو گرفتار کر کے اور ان لی لاشیں ویرانے میں پھینک کر وہ انہیں مذاکرات کی میز پر لا سکتی ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بھی بتانا ہو گا کہ اختیارات کے اصل مالک کون ہیں۔ ’ابھی تک تو فوج اور سویلین حکمران گیند ایک دوسرے کے کورٹ میں پھینکتے آئے ہیں۔‘

Source: BBC Urdu

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 72 other followers

%d bloggers like this: