Related posts: Sipah-e-Sahaba hosts ISI-sponsored Defence of Pakistan Conference on 29 Jan 2012 in Multan
Pakistan’s military state enables further Shia killings in the name of Difa-e-Pakistan
Pakistan army outsources the Defence of Pakistan to Shia killers
Imran Khan’s PTI joins banned terrorist groups in pro-army rally in Lahore
دفاع پاکستان یا اتحاد قاتلین شیعہ؟
ملتان میں مورخہ ٢٩ جنوری کو ہونے والی دفاع پاکستان کانفرنس کی میزبانی اور انتظام کالعدم دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ (جو آج کل اہلسنت والجماعت کے نام سے سنی بریلوی عوام کی آنکھ میں دھول جھانکنا چاہتی ہے ) کے سپرد تھا
دفاع پاکستان کونسل کا بھرم کھل گیا، ملتان جلسے میں بدنام زمانہ دہشتگرد ملک اسحاق کی شرکت نے ثابت کر دیا کے آئ ایس آئ کی حمایت یافتہ دفاع پاکستان کونسل اصل میں اتحاد قاتلین شیعہ ہے – آج کے اتحاد قاتلین شیعہ جلسے میں درج ذیل شامل تھے – جنرل حمید گل (آئ ایس آئ کے سابقہ سربراہ جو آج بھی آئ ایس آئ اور شیعہ دشمن تنظیموں کے درمیان کلیدی رابطے کی حیثیت رکھتے ہیں )، منور حسن (جن کی طالبعلم تنظیم اسلامی جمیعت نے یوم حسین کے جلسے میں شیعہ طلبہ پر حملہ کیا تھا)، سمیع الحق (طالبان اور سپاہ صحابہ کے روحانی سرپرست) ، جنرل اسلم بیگ ( جن کے دور میں شیعوں کا بد ترین قتل عام ہوا) اورا عجاز الحق (جن کے والد نے سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی تھی )
جلسہ گاہ میں سپاہ صحابہ کے کارکنان بھی بڑی تعداد میں شریک تھے جو سپاہ صحابہ زندہ باد، ایران مردہ باد، جاگ سنی جاگ اور کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے لگا رہے تھے ۔
اسلام ٹائمز۔کے مطابق جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان ميں دفاع پاکستان کونسل کي جانب سے دفاع پاکستان کانفرنس میں جنوبی پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سے ديني اور سیاسی جماعتوں کے ہزاروں کی تعداد میں کارکنان شریک ہوۓ ۔ اسپورٹس گراؤنڈ ميں شروع ہونے والی اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ بدنام زمانہ دہشتگرد ملک اسحاق بھی شریک ہوا , جسے اسٹیج پر خصوصی دعوت دیکر بیٹھایا گیا ہے، اسلام ٹائمز کے نمائندے کے مطابق “جس وقت ملک اسحاق کو اسٹیج پر بلایا گیا اس وقت جلسہ گاہ ایران مردہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا اور اسٹیج سے کسی نے منع تک نہیں کیا۔ جلسہ گاہ میں سپاہ صحابہ کی کارکنان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوۓ , جو سپاہ صحابہ زندہ باد، ایران مردہ باد اور شیعہ کافر کے نعرے لگا رہے تھے “۔
دفاع پاکستان کے مقدس عنوان کی آڑ میں پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ دین فروش اور ضمیر فروش پیشہ ور مولویوں کے ساتھ مل کر ایک دفعہ پھر پاکستان، خاص طور پر،پنجاب کے معصوم عوام کو نفرت، جہادی تشدد اور فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہے. کون نہیں جانتا کہ سمیع الحق ، احمد لدھیانوی اور حافظ سعید آئ ایس آئ کے آلہ کار ہیں. کون نہیں جانتا کہ جماعت الدعوه اور سپاہ صحابہ پر ملکی اور بین الاقوامی قانون کے تحت پابندی ہے . کسے نہیں پتہ کے اہل سنت والجماعت کے نام سے سپاہ صحابہ المعروف لشکر جھنگوی نے شیعہ، بریلوی، احمدی اور مسیحی پاکستانیوں کا متعدد مرتبہ قتل عام کیا ہے. خدا کی پناہ، جنرل حمید گل ، جنرل اسلم بیگ، اعجاز الحق، منور حسن جیسے فوج کے گماشتے دفاع پاکستان کے مقدس لبادے میں شیعہ ، بریلوی، احمدی، مسیحی اور دیگر مظلوم گروہوں کے قتل عام کے نۓ منصوبے بنا رہے ہیں اور ان دہشت گردوں کو نۓ رنگروٹ بھرتی کرنے، اپنے آپ کو منظم کرنے ، اپنے نظریات پھیلانے کی مکمل اجازت دے دی گئی ہے. اس گھناؤنی سازش میں پنجاب کی نا اہل اور سپاہ صحابہ کی حلیف انتظامیہ بھی مکمل طور پر شامل ہے – لیکن شیعوں کے قتل عام میں سب سے گھناونا رول آئ ایس آئ کا ہے جو شیعہ مسلمانوں کو افغانستان میں اپنے دیوبندی وہابی خلافت والے ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے -
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل کا بھرم کھل گیا ہے اور تمام محب وطن جماعتوں اور عوام پر یہ منکشف ہو گیا ہے کہ دفاع پاکستان کے نام پر دہشگردوں کا دفاع کیا جا رہا ہے، بعض عناصر خاص طور پر فوجی جنرل نہیں چاہتے کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو۔ کانفرنس میں سپاہ صحابہ کے سرغنہ احمد لدھیانوی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ حمید گل، فرزند حمید گل عبداللہ گل، مولانا سمیع الحق، جماعت اسلامی پنجاب کے امیر ڈاکٹر وسیم اختر، مولانا بشیر احمد، سپاہ صحابہ کے مسعود رحمان فاروقی اور حافظ عبدالرحمان مکی سمیت دیگر دیوبند مکتب سے تعلق رکھنی والی شخصیات شریک ہوئیں
آج کے دور یزیدی میں شیعہ مسلمانوں کی ذمہ داریاں
آج کے دور میں شیعہ قوم پر، ہر شیعہ فرد پر لازم ہے کہ اپنے ، اپنے خاندان اور اپنی قوم کے تحفظ کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ خریدے اور بوقت ضرورت استعمال کرے – ہم ناجائز اسلحہ رکھنا اور بلا وجہ تشدد کے خلاف ہیں لیکن حلال کی کمائی سے اسلحہ خریدنا ، حکومت سے اس کا لائسنس حاصل کرنا اور دہشت گردوں کے حملے کے وقت اس کا استعمال کرنا ہمارا قانونی حق ہے اور شرعی طور پر واجب بھی – یہ سنت امام مظلوم بھی ہے کہ تلوار کو اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کیا جائے – شیعہ نوجوانوں کو قانونی طور پر اسلحہ حاصل کر کے اس کی مکمل تربیت حاصل کرنا چاہیے – اس اسلحے سے ہم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں سے نہ صرف شیعہ قوم بلکہ دوسرے معصوم پاکستانیوں جن میں بے گناہ سنی ، احمدی، مسیحی وغیرہ شامل ہیں کا تحفظ بھی کر سکتے ہیں
ہمیں اس امر کا احساس کرنا ہے کہ آج نہ مقتول کا صحیح تعین ہو رہا ہے نہ ہی قاتل کا – مقتول کا تعین صرف اور صرف شیعہ ہے – ہمیں کوئی ہماری زبان یا نسل (پشتون، پنجابی، مہاجر ، ہزارہ وغیرہ) کی وجہ سے نہیں مار رہا – آج شیعوں کو صرف ان کے عقیدے کی پاداش میں قتل کیا جا رہا ہے – اپنے اس تشخص کو کبھی فرموش نہ کریں نہ کسی کو شیعہ قوم کی قربانیوں پر نسلی یا لسانی پردہ ڈالنے دیں – شیعہ قوم کے قتل پر پردہ ڈالنے والے آئ ایس آئ اور سپاہ صحابہ کے ایجنٹ ہیں ان سے ہوشیار رہیں
اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ان مولویوں سے بھی ہوشیار رہنا ہے جو قاتلوں کی صحیح نشاندہی نہیں کر رہے – اس بات کو غور سے سمجھ لیجئے کہ آج شیعہ قوم کے قتل کی سو فی صد کار وائیوں میں انتہا پسند دیوبندی ملوث ہیں جو وہابی نہیں. پاکستان میں شیعوں کے قتل میں وہابیوں کا کوئی براہ راست کردار نہیں – ہاں سعودی عرب کی امداد ضرور آ رہی ہے لیکن مارنے والے وہابی نہیں، دیوبندی ہیں، اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لیں – پاکستان میں وہابیوں کی تنظیمیں جماعت الدعوه ، جمیعت اہلحدیث وغیرہ شیعوں کے قتل میں ملوث نہیں – شیعوں کے قتل میں سپاہ صحابہ، جیش محمد، جنداللہ وغیرہ ملوث ہیں جو سب کی سب دیوبندی ہیں – ان دہشت گرد دیوبندی جماعتوں کے پیچھے امریکہ نہیں بلکہ پاکستان کی فوج کا ہاتھ ہے جو ان جماعتوں کے ذریعہ سے افغنستان ، انڈیا وغیرہ میں اپنے جہادی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے – اس لیے شیعوں کے قتل کی ذمہ داری وہابیوں یا امریکہ پر ڈالنا حقیقت میں اصلی قاتلوں سے توجہ ہٹانا ہے
ہم ایک مثال سے اپنی بات واضح کرتے ہیں - پاکستان میں ایرانی ملاؤں کے اندھے مقلدین نے ہمیشہ حماس کا ساتھ دیا ہے اور اس کے حق میں مظاہرے کیے ہیں اور درجنوں شہادتیں پیش کی ہیں -کیا آپ کو معلوم ہے کے حماس ایک متعصب فرقہ وارانہ شیعہ دشمن تنظیم ہے جس نے اس سال شیعوں کی چہلم کی مجلس پر حملہ کیا اور متعدد شیعوں کو زخمی اور گرفتار کر لیا – پس تمام پاکستانی شیعہ حضرت سے میری گزارش ہے کہ خدارا ہزارہ قوم پرستوں اور ایرانی ملاؤں کے چنگل سے نکلیں – قاتل اور مقتول کا واضح تعین کریں - مقتول شیعہ ہیں اور قاتل پاکستان کی فوج کے حمایت یافتہ دیوبندی دہشت گرد ہیں - لیکن تمام دیوبندی دہشت گرد نہیں، دیوبندیوں کی اکثریت بریلویوں ، احمدیوں، شیعوں، سلفیوں کے طرح امن پسند ہے – یہ فقط آئ ایس آئ کے برین واشڈ جہادی دیوبندی ہیں جو شیعوں کا قتل عام کر رہے ہیں - شیعہ قوم کے دفاع کے لیے مستعد اور متحد ہو جایں
عالمی سطح پر ہمیں اپنی مظلومیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو کہ سنت سیدہ زینب ہے – ہمیں اعداد و شمار مرتب کرنے کی ضرورت ہے – مثال درج ذیل ہے
تاریخ – واقعہ کی نوعیت – جگہ – شہدا کی تعداد – زخمیوں کی تعداد – نام ، عمر، پیشہ ، جنس، مذہب، مزید تفصیل وغیرہ
پاکستان میں اس طرح کے اعداد و شمار کے لیے مندرجہ ذیل سائٹوں سے مدد لی جا سکتی ہے – کربلاے کویٹہ – شیعہ کلنگ – پولیٹیکل شیعہ – لیٹ اس بلڈ پاکستان – پاکستان بلاگزین – وغیرہ
خلاصہ
١. قاتل کا صحیح تعین
٢. مقتول کا صحیح تعین
٣. حفاظت کے لیے لائسنسی اسلحہ اور اس کی تربیت اور حسب ضرورت استعمال
٤. شیعہ مقتولین اور مجروحین کے مکمل (ہفتہ وار، ماہوار ، سالانہ ) اعداد و شمار
٥. ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں بھرپور تشہیر
٦. دیگر مظلوم اور مقہور قوموں (طالبان مخالف پشتون، بلوچ، احمدی، مسیحی، بریلوی وغیرہ) سے بھرپور رابطہ ، ایک دوسرے کی اخلاقی حمایت
خدا آپ کا حامی و ناصر ہو

