An Ode to the Defenders of Adeyzai – translated by Imran Khan

by admin

Related posts :-
Adezai Qaumi Lashkar by Behzad Taimur
Adezai lashkar ends cooperation with the government by Farhat Taj
Paying the Price by Manzoor Ali

Cross-posted from I Opyne

The Lashkar at Adeyzai has thwarted the march of the Taliban towards Peshawar. This tiny village near Peshawar has been a target for the Taliban for a long time now. Their leaders have paid in blood for standing up to the Taliban, their women and children are also not spared. These guys are fighting our war, a thankless cause, but amazingly this poem, written by someone named Hadi from Adeyzai, has no sarcasm for the rest of us, only pride in their own unflinching stand. Looking for true Pakhtun resistance? then this is it. If you dont know who Dilawar and Haji Malik are, then that in itself is a measure of the blackout that our media has on portraying the cause of these sons of the soil.


A Salute to the Adeyzai

We live by our honor and they call us the brave

We are the ambassadors of peace from Adeyzai

Why are they bringing the smoke of gunpowder to us?

May God destroy those who bring war to this village

As long as valiant ones like Dilawar are alive

The blood of Ahmad and Malik will not go wasted

We are the pride of our nation and they call us the gallant ones

We are the ambassadors of peace from Adeyzai

History is witness that we haven’t succumbed to any invader

We will never tolerate any injustice done to the Adeyzai

If we are not harming anyone, then how could we let someone harm us?

We will never allow terror to prevail in our beloved village

We are ready to die for each other, they call us the indomitable

We are the ambassadors of peace from Adeyzai

We have lost our youth and elders in these bombings

Even our children were lost to the smoke of gunpowder

Our shops and houses were burnt down during the night

Our belongings and peace lost to mere bomb pellets

We are burning in the fires of revenge, and some even call us crazy

We are the ambassadors of peace from Adeyzai

I salute your efforts and resolve to bring peace

O my valiant villagers, I salute your passion

You have raised our head high among the Khalil-Mohmands

I Hadi, salute the tribe of Adeyzai

In history, we will be remembered as the lions of this land

We are the ambassadors of peace from Adeyzai

We live by our honor and they call us the brave

We are the ambassadors of peace from Adeyzai

3 Comments to “An Ode to the Defenders of Adeyzai – translated by Imran Khan”

  1. Long Live Adeyzais !
    To Hell with Taliban Terrorists !

  2. We are the ambassadors of peace from Adeyzai !
    Salute to great ambassadors of peace !

  3. ’وعدے پورے نہ ہوئے تو طالبان سے لڑنا چھوڑ دیں گے‘

    اگر آدیزئی اور بازید خیل کے عوام لشکر نہ بناتے تو طالبان پشاور پر کب کا قبضہ کرچکے ہوتے: لشکر سربراہ

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور کے مضافات میں طالبان مخالف لشکر کے سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری جنگ میں ان سے کیے گئے وعدے پورے نہ کیے تو وہ شدت پسندوں کے خلاف لڑنا چھوڑ سکتے ہیں۔

    پشاور کے مضافاتی علاقے ادیزئی میں قومی لشکر کے سربراہ دلاور خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو برسوں سے وہ ہزاروں مسلح رضاکاروں سمیت شدت پسندوں کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان سے کئی قسم کے وعدے کئے تھے جن میں ہتھیار، راشن اور تیل کی فراہمی وغیرہ شامل ہے لیکن ابھی کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا بلکہ اس دوران وہ خود اپنے وسائل سے جنگ لڑ تے رہے ۔

    ’ ہمارے وسائل ختم ہورہے ہیں۔ ہم میں مزید لڑنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ اگر حکومت اپنے وعدے پوری کرتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم مزید یہ لڑائی نہیں لڑ سکتے۔‘

    دلاور خان کے بقول اب تک علاقے کے لوگ خود اپنا سامان استعمال کررہے تھے حالانکہ حکومت یہ سب چیزیں فراہم کرنے کے کئی مرتبہ وعدے کرچکی ہے۔

    پاکستان میں دو ہزار آٹھ میں حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں شدت پسندوں کو عام افراد سے لاتعلق کرنے کےلیے قبائلی لشکر بنانے کی حکمت عملی کا آغاز کیا تھا۔ تاہم اکثر علاقوں میں یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی بلکہ عسکریت پسندوں کی طرف سے لشکروں پر حملوں سے سینکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں
    آدیزئی پشاور شہر کے جنوب میں واقع ایک مضافاتی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ عام طورپر اسے پشاور کی ڈیفنس لائن کہا جاتا ہے کیونکہ اس علاقے کی سرحدیں قبائلی علاقوں باڑہ، درہ آدم خیل اور ایف آر پشاور سے متصل ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور شہر کے ایک اور مضافاتی علاقے بازید خیل میں بھی مقامی لوگوں نے عسکریت پسندوں کے خلاف لشکر تشکیل دیا ہوا ہے۔ یہ علاقہ بھی باڑے کے قبائلی علاقے سے ملا ہوا ہے۔

    لشکر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر آدیزئی اور بازید خیل کے عوام لشکر نہ بناتے تو طالبان پشاور پر کب کا قبضہ کرچکے ہوتے۔

    دلاور خان کے مطابق رمضان کے مہینے میں ان کے لشکر کے چند اہم ساتھی طالبان کے ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوئے تھے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندانوں کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ’ ہم قربانی دے رہے ہیں اور حکومت کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی یہ سلوک ہورہا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے کسی اور علاقے میں اس قسم کا واقعہ پیش آتا تو دوسرے ہی دن متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔

    لشکر کے سربراہ نے مزید کہا کہ اب تک اس جنگ میں ان کے پینتالیس رضاکار ہلاک ہوچکے ہیں جن میں آدیزئی لشکر کے سربراہ عبد المالک ، نائب سربراہ حاجی علی احمد اور حاجی مراد سمیت کئی اہم افراد شامل ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انھیں طالبان کے خلاف لشکر بنانے کا خیال اس وقت آیا جب وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں سے لاکھوں افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ ’ قوم کے مشران نے مشاورت کی کہ علاقے میں آپریشن کی صورت میں وہ نقل مکانی کرکے کہاں جائیں گے۔ ’علاقہ تو نہیں چھوڑ سکتے، بچوں اور خواتین کا کیا ہوگا۔ اس لیے سب نے علاقے سے نکلنے کی بجائے طالبان کے خلاف ڈٹ جانے کا متفقہ فیصلہ کیا۔‘

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ لشکر، حکومت کی جنگ لڑ رہا ہو اور اسے کوئی امداد نہ ملے تو دلاور خان نے کہا کہ ’میں میڈیا پر آن دی ریکارڈ اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہوں۔‘

    انہوں نے کہا کہ لشکر بناتے وقت حکومت نے باقاعدہ وعدہ کیا تھا کہ تمام رضاکاروں کو ہتھیار، راشن، تیل اور یہاں تک کہ نوکریاں بھی دی جائی گی لیکن کسی بھی وعدے کو وفا نہیں کیا گیا۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں دو ہزار آٹھ میں حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں شدت پسندوں کو عام افراد سے لاتعلق کرنے کےلیے قبائلی لشکر بنانے کی حکمت عملی کا آغاز کیا تھا۔ تاہم اکثر علاقوں میں یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی بلکہ عسکریت پسندوں کی طرف سے لشکروں پر حملوں سے سینکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں جس سے اب لوگ واضح طورپر طالبان کے سامنے آنے سے گریزاں ہیں۔بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگلے وقتوں میں یہ لشکر خود بھی حکومت کے لیے کئی قسم کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/12/101209_lashkar_threats_rza.shtml

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: