Foreign journalists in Pakistan: Embedded in the narratives of military establishment and urban elite

by admin


Through LUBP, we have been successfully confronting and exposing the pro-military establishment and pro-urban middle class narratives of the Pakistani print and electronic media (including Pakistani blogs). (see some examples here, here and here)

However, the role of foreign media in Pakistan, as embedded in and reinforcing the military establishment’s and urban elitist narratives, has remained relatively ignored.

Recently, Sheen Alif wrote an excellent article deconstructing Guardian’s Declan Walsh’s simplistic reporting on ‘deadly divide’ in Karachi, which clearly reflected the wisdom Mr Walsh borrowed from his urban (MQM) contacts in Karachi.

Another example is how foreign journalists report “Sunni-Shia sectarianism” with a broad brush, deliberately ignoring the fact that, historically, Sunni-Shia sectarianism is almost non-existent in Pakistan. They neglect the important distinction between Sunni, Deobandi and Wahhabi. They remain entrapped in the common fallacies which are often shared by the Taliban apologists and ‘liberal’ analysts. They conveniently ignore the conflict between the extremist Deobandis (of the Taliban and Sipah-e-Sahaba, who constitute only a tiny section of Pakistan’s population) and the rest of Pakistan including Sunnis, Shias, Muslims, non-Muslims. To portray extremist Deobandis as representing the Sunni majority is tantamount to the rape of facts and is consistent with the military establishment’s narratives and jihadi/sectarian agenda.

Other examples of foreign media’s bias include the decontextualised recycling of the military establishment’s ‘politicians-are-corrupt’ mantra. This includes the insulting and one-sided manner in which certain journalists sometimes portray Pakistani politicians and elected leaders such as President Asif Zardari or late PM Benazir Bhutto etc. For example the story in Daily Mail which advised that “Cameron should count his fingers after shaking hands with Pakistan’s Mr Ten Per Cent”.

Similarly, foreign media’s reporting on Afghanistan, Iran and other countries in the region remains skewed, and with a very few exceptions (such as Robert Fisk’s reports on the Middle East) foreign journalists remain subservient to the official narratives of their governments and military establishments.

For example, in his reporting of Jundullah’s attack on Imam Hussain Mosque in Iran, Guardian’s Ian Black terms Jundullah as an “Iranian Sunni group” ignoring its ideological and cross-border links with the Baloch nationalists and extremist Deobandis of Pakistan.

John Pilger’s ‘The War That We Don’t See’ has enough food for thought for us. In Pilger’s words, leading news channels in the UK and the US “broadcast received establishment wisdom dressed as news. This helps us understand why propaganda in free societies like Britain and the United States is far more effective than in dictatorships. While ‘professional’ journalists, especially broadcasters, present themselves falsely as a neutral species, truth doesn’t stand a chance.”

I would suggest that LUBP team members and other writers may pay attention to this topic, and write research based accounts exposing the military-establishment-and-urban-elite-embeddedness of foreign journalists in Pakistan.

6 Comments to “Foreign journalists in Pakistan: Embedded in the narratives of military establishment and urban elite”

  1. دی وار دیٹ وی ڈونٹ سی، کڑوے سچ کی تلاش

    عامر احمد خان
    بی بی سی اردو سروس، لندن

    ستانوے منٹ کے دورانیے کی اس فلم میں جان پلجر نے کئی ایسے لوگوں سے انٹرویو کیے ہیں جو کسی نہ کسی وقت امریکہ کے جنگی عزائم میں کلیدی کردار رہے ہیں

    معروف برطانوی صحافی جان پلجر کی ویسے تو کافی عمر ہے لیکن انہیں مغربی صحافت کا اینگری ینگ مین کہنا کچھ غلط نہ ہو گا۔ دنیا بھر میں ان کے لاکھوں مداح انہیں ہر وقت کڑوے کسیلے سچ کے متلاشی کے طور پر جانتے ہیں۔

    ان کے چالیس برس سے بھی زیادہ عرصے پر محیط کیریئر میں شاید ہی کوئی ایسا اہم صحافتی ایوارڈ ہو جو انہیں نہ ملا ہو۔ اور آج جان پلجر اس تحریر کا موضوع اپنی نئی فلم کی وجہ سے بنے ہیں جس کا نام ہے ’دی وار دیٹ وی ڈونٹ سی‘ یا وہ جنگ جو ہمیں دکھتی نہیں۔

    کلِک سنئیے: ’وہ جنگ جو ہمیں دکھتی نہیں‘

    اس فلم میں ایسا کیا ہے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے پر مجبور ہوئے۔

    جان پلجر کہتے ہیں کہ یہ فلم سوال کرتی ہے کہ عراق اور افغانستان جیسی سفاکانا جنگوں میں میڈیا کا کیا کردار ہوتا ہے۔ اور یہ کہ جنگی جرائم کو کیسے رپورٹ کیا جاتا ہے اور ان کا جواز بنایا جاتا ہے باوجود اس کے کہ وہ جنگی جرائم ہوتے ہیں۔

    ستانوے منٹ کے دورانیے کی اس فلم میں جان پلجر نے کئی ایسے لوگوں سے انٹرویو کیے ہیں جو کسی نہ کسی وقت امریکہ کے جنگی عزائم میں کلیدی کردار رہے ہیں۔ ان میں سرکاری افسر، سیاستدان، اقوام متحدہ کے افسران، صحافی اور ایسے بہت سے لوگ شامل ہیں جنہیں جان پلجر کسی نہ کسی طور پر قصوروار سمجھتے ہیں۔

    دی وار وی ڈونٹ سی ہمیں ایک ایسے صحافتی حمام میں لے جاتی ہے جس میں سب ننگے ہیں۔ کوئی رپورٹر ہے یا ایڈیٹر، کسی کے پاس بھی سوائے اپنی غلطی ماننے کے کوئی چارہ نہیں۔

    اور جیسا کہ وہ خود اپنی فلم کے بارے میں کہتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کے سامنے وہ یہی سوال رکھتے ہیں کہ عراق اور افغانستان کے خلاف امریکہ کی سفاکانا جنگ کی عالمی صحافت پر کس حد تک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

    یہ ایک مشکل سوال ہے جس کا جواب یا تو کسی صحافی کے پاس ہے نہیں یا وہ ہاتھ اٹھا کر اقرار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ انہوں نے جو کیا وہ غلط کیا۔ بی بی سی کے سابق رپورٹر اور آجکل الجزیرہ سے منسلک مشہور صحافی، ریگے عمر، کہتے ہیں ’میں نے واقعی اپنی ذمہ داری صحیح طور پر نہیں نبھائی۔ میرے خیال میں میں تو ہاتھ کھڑے کر کے یہی کہوں گا کہ ہم نے پریشان کن نکات پر زیادہ زور نہیں ڈالا۔‘

    جان پلجر اس فلم میں ہمیں دکھاتے ہیں کہ کس طرح مغربی حکومتوں نے میڈیا کو اپنے ساتھ منسلک کر کے یعنی ایمبیڈیڈ صحافت کے ذریعے، نہ صرف ان سے اپنی مرضی کی رپورٹنگ کرائی بلکہ انہیں ایک طرح سے امریکہ کے جنگی جنون کا لازم وملزوم حصہ بنا دیا۔

    ان کی فلم میں ایسی کئی مثالیں ہیں جن کی مدد سے ہم صحافیوں کے ذہنوں پر جنگی جنون کے اثرات سمجھ سکتے ہیں۔ کہیں تو صحافی جنگی سازوسامان کی چمک دمک کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور کہیں وہ یہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ محض کسی ایک معرکے میں کامیابی ایک جھوٹ پر مبنی جنگ کو صحیح نہیں بنا دیتی۔

    مثلاً بغداد پر قبضے کے دن بی بی سی کے رپورٹر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بغداد پر بہت زیادہ خون خرابے کے بغیر قبضہ کر لیں گے اور جب ایسا ہو جائے گا تو عراقی خوشیاں منائیں گے۔ ان دونوں معاملوں میں وہ بالکل صحیح ثابت ہوئے۔ اور یہ ان کے ناقدین کی کم ظرفی ہو گی کہ اگر وہ یہ نہ مانیں کہ آج رات نہ صرف ان کا سیاسی قد بڑھا ہے بلکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط وزیر اعظم کے طور پر ابھرے ہیں۔

    دی وار وی ڈونٹ سی ہمیں ایک ایسے صحافتی حمام میں لے جاتی ہے جس میں سب ننگے ہیں۔ کوئی رپورٹر ہے یا ایڈیٹر، کسی کے پاس بھی سوائے اپنی غلطی ماننے کے کوئی چارہ نہیں۔ بی بی سی کے نیوزگیدرنگ شعبے کی سربراہ فران انزورتھ کہتی ہیں: ’میرے خیال میں میں یہی کہوں گی کہ ہمیں واضح طور پر یہ سمجھ نہیں آئی کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار واقعی نہیں ہیں۔ یہ ہمیں دیر میں سمجھ آئی۔ اس وقت کی وہ فائل جسے اب ڈوجی ڈوزیئر کہا جاتا ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سی شہادتیں سامنے آئیں جن سے اشارے ملے کہ میڈیا اس معاملے میں حکومتی دعوں کے سامنے بیوقوف بن گیا۔‘

    اور اس بیوقوفی کی سزا کسے ملتی ہے، ظاہر ہے، بیگناہ پبلک کو جس کی آواز بھی کوئی نہیں سن پاتا، جیسے کہ یہ عراقی خاتون جو ان الفاظ کے ساتھ امریکی صدر جارج بش کو مخاطب کرتی ہیں۔

    میرے گھر میں خوش آمدید، مسٹر بش۔ اسے دیکھیں۔ کیا آپ میں ذرا بھی انسانیت ہے؟ آپ ایک چھوٹی سی بچی کو اپنے ماں اور باپ کے لیے روتا کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ کہاں ہے آپ کی انسانیت؟ کہاں ہے آپ کا ضمیر؟
    عراقی خاتون
    ’میرے گھر میں خوش آمدید، مسٹر بش۔ اسے دیکھیں۔ کیا آپ میں ذرا بھی انسانیت ہے؟ آپ ایک چھوٹی سی بچی کو اپنے ماں اور باپ کے لیے روتا کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ کہاں ہے آپ کی انسانیت؟ کہاں ہے آپ کا ضمیر؟‘

    دی وار وی ڈونٹ سی تیرہ دسمبر کو برطانوی سنیماؤں میں اور چودہ دسمبر کو مقامی ٹی وی چینل آئی ٹی وی پر دکھائی گئی۔ جان پلجر کا کہنا ہے ان سفاکانا جنگوں کے شکار عوام کی آواز ہماری یاداشت کا حصہ ہی نہیں بن سکی۔ اسی لیے وہ اس فلم کے بارے میں کہتے ہیں۔

    ’لاتعداد مردں، عورتوں اور بچوں کی زندگی کا انحصار سچ پر ہوتا ہے۔ یہ فلم آپ کے جاننے کے حق کے بارے میں ہے۔‘

    http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2010/12/101215_pilger_warmovie_rza.shtml

  2. Pakistan’s history is one of opportunities lost, with one exception: its military establishment rarely passes up a chance to undermine a civilian government. This is the overarching context of Pakistani politics.

    In this atmosphere of public contempt for Zardari, the floods quickly became the centre-piece. And certainly, the government deserves a good deal of criticism for being inert, while the army deserves credit for its relief work. But it betrays our jaundiced history when, in contrast to other countries, the military’s efforts are seen as independent of government action, particularly given that the army has a constitutional duty to “act in aid of civilian power”. Disaster relief also requires advanced logistical capabilities, which is why militaries the world over take the lead in the process. Further, the military takes one-third of the budget, accounting for service pensions that Musharraf’s government moved from military to civilian spending. It possesses the air-lift capabilities, boats and hovercraft that the anaemic civilian machinery does not. And the military budget remains ringed off even in these times of austerity measures and natural disaster.

    …, the military controlled nearly all access to the worst-hit areas, organising visits of domestic and foreign journalists. These forays produced heart-rending scenes. But along the way many of these reporters have forgotten that they have become embedded. Though restricting access and embedding journalists has been condemned in the context of military operations in Fata and Balochistan – the practice remains unquestioned in the context of the floods.

    Embedded with the military
    Shibil Siddiqi
    October 1, 2010
    http://tribune.com.pk/story/57338/embedded-with-the-military/

  3. For journalists in Pakistan, the consequences can be even more dire. This month journalist and activist Abdul Hameed Hayatan was found dead after going missing in the province of Balochistan in October. His death has been widely blamed on Pakistan’s security forces – like so many others in the province, where a conflict involving the state and several different insurgent groups has been characterised by targeted killings, abductions and extrajudicial killings.

    More journalists have been killed, kidnapped or attacked in conflict-ridden Balochistan and the Pashtun tribal areas than in any other part of Pakistan. Elements of the Pakistan Taliban network and other insurgent groups have been blamed for most of these deaths.

    Yet it isn’t only on the frontlines that journalists face abuse. On the evening of 4 September, the investigative reporter Umar Cheema was kidnapped by what appeared to be a police patrol while driving home in Islamabad. “They stripped me naked and tortured me,” he recalled. Tied upside down, Cheema was badly beaten and had his eyebrows, moustache and hair shaved in a six-hour ordeal after which he was thrown on to a highway some 125 kilometres from his home in Islamabad.

    Cheema quickly realised his captors were in fact part of Pakistan’s secretive intelligence agencies. What got him into hot water was not reportage on the army’s atrocities or its involvement in military operations with the US, but its incompetence in prosecuting persons accused of killing army personnel, including the chief suspect in the assassination of General Mushtaq Baig, the most senior army officer killed by militants so far. Cheema also reported on doubts faced by some of the elite army commandos who were to partake in the Islamabad Red Mosque siege of 2007. Two commandos were court-martialed and imprisoned for calling for a political settlement of the siege.

    In south Asia, independent journalism is a real risk

    Mustafa Qadri
    28 Nov 2010
    http://www.guardian.co.uk/commentisfree/libertycentral/2010/nov/28/south-asia-independent-journalism-risk

  4. It is entertaining (as well as sad) to read foreign accounts of Ashura in which Yazid is reported as a Sunni Caliph who killed a Shia leader Imam Hussain.

    http://www.middle-east-online.com/english/?id=42946

  5. PAKISTANI MEDIA PUPPETS OF KHAKIS !
    Geo TV and its team of Goebbels – by Irfan Urfi
    http://criticalppp.com/archives/28921

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: