SOS for Qalandranis: General Pasha, please don’t kill and dump them!

by admin


’کیس ہم کیا کریں، کہاں ہمیں انصاف ملے گا اس ملک میں‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دس زیرحراست شہریوں کی رہائی کے لیے انٹرنیٹ پر ایک ہنگامی اپیل جاری کی ہے۔

تنظیم کے مطابق زیر حراست شہریوں کی زندگیاں سخت خطرے میں ہیں۔

جن دس افراد کی رہائی کےلیے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہنگامی اپیل جاری کی ہے، ان میں ایک ضعیف العمر شخص بھی شامل ہیں۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے اسّی سالہ محمد رحیم خان قلندرانی کے بیٹے رفیق قلندرانی نے بتایاکہ انہیں نہیں معلوم کہ ان کے والد کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

کلِک لاپتہ افراد: اسّی سالہ رحیم قلندرانی بھی شامل ہیں

رفیق قلندرانی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے انصاف کے لیے پولیس یا عدالت سے رجوع کیا ہے؟ تو ان کا جواب نفی میں تھا اور ان کے پاس اسکی اپنی توجیہ تھی۔

’کیس ہم کیا کریں۔ کلِک انہی کی عدالت ہے۔ انہی کا ملک ہے۔ عدالت بھی وہی (سیکیورٹی فورسز) ہیں۔ مارنے والے بھی یہی ہیں۔ کہاں ہمیں انصاف ملے گا اس ملک میں۔‘

’میرے والد صاحب چل پھر نہیں سکتے وہ اسلحہ کہاں سے اٹھائیں گے۔ ہم تو امن پسند لوگ ہیں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن انہوں نے اس تاثر کو رد کردیا کہ وہ ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

‘دیکھیں جو ان (سکیورٹی فورسز) کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں جو اسلحہ رکھتے ہیں وہ پہاڑوں میں ہیں۔ جاکے انہی کے خلاف آپریشن کریں انہی کو پکڑیں۔ ہم تو کھیتی باڑی کرتے ہیں، معصوم لوگ ہیں۔‘

دیکھیں جو ان (سکیورٹی فورسز) کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں جو اسلحہ رکھتے ہیں وہ پہاڑوں میں ہیں۔ جاکے انہی کے خلاف آپریشن کریں انہی کو پکڑیں۔ ہم تو کھیتی باڑی کرتے ہیں، معصوم لوگ ہیں۔
رفیق قلندرانی
انہوں نے بتایا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان سے تو نہیں لیکن ان کے ایک رشتہ دار سے رابطہ کیا تھا اور معلومات حاصل کی تھیں۔

اس سے قبل اسلام آباد سے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق ایمنسٹی نے دنیا بھر کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ان افراد کی زندگیاں بچانے کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم، وزیر داخلہ رحمن ملک اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سردار اسلم رئیسانی کو تحریری اپیلیں بھیجیں۔

تنظیم کے مطابق ان میں عتیق محمد قلندرانی، خلیل الرحمن قلندرانی، وسیم رحمن، نثار احمد گرگناری، آفتاب قلندرانی، نصیب رحمن قلندرانی، محمد رحیم خان قلندرانی، ڈاکٹر محمد طاہر قلندرانی، فدا احمد قلندرانی اور ندیم قلندرانی شامل ہیں۔

بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے ترجمان مرتضیٰ بیگ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

ترجمان نے رپورٹ کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلِک ایف سی نے خضدار ضلع میں یا کسی اور علاقے میں ایسی کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ کوئی بندہ ایف سی کی حراست میں ہے۔

دوسری جانب سیربین سے بات کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نامی تنظیم کے نائب صدر قدیر بلوچ نے بتایا کہ قلندرانی قبیلے کے لڑکے سیاسی بھی ہیں اور ان کا دوسرے قبیلے کے ساتھ جھگڑا بھی ہے۔

مجھے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیشانی نے خود کہا ہے کہ تمہارا بیٹا آئی ایس آئی کی تحویل میں ہے۔
قدیر بلوچ
’دوسرے قبیلے کا خود تو بس چلا نہیں تو انہوں نے ملیشیا کے ذریعے ان کے خلاف کارروائی کروا دی۔‘

ان کے اپنے بیٹے بھی گزشتہ ایک سال سے لاپتہ ہیں۔ اپنے بیٹے کے بارے میں انہوں نے کہا ’مجھے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیشانی نے خود کہا ہے کہ تمہارا بیٹا آئی ایس آئی کی تحویل میں ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعینات نیم فوجی ادارے فرنٹیئر کور نے اٹھارہ فروری کو ضلع خضدار کے قصبے توتک میں سرچ آپریشن کے دوران ان دس افراد سمیت انتیس بلوچوں کو حراست میں لیا تھا۔

تنظیم کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے اٹھارہ افراد کو تو بعد میں رہا کر دیا گیا لیکن ایک زیر حراست نوجوان مقصود قلندرانی کی تشدد زدہ لاش سولہ جولائی کو کوئٹہ کے قریب جبلِ نور کے علاقے سے برآمد ہوئی اور پولیس کے مطابق اس کی جیب سے ایک تحریر بھی ملی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ بلوچستان لبریشن آرمی کا ایجنٹ تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مقصود قلندرانی بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد گروپ کا کارکن تھا۔

ماورائے عدالت قتل ہونے والے ان ایک سو آٹھ افراد میں سے کم از کم ترانوے افراد وہ تھے جو قتل سے پہلے لاپتہ ہوگئے تھے۔ مقتولین کے ورثاء اور بلوچ کارکن ان ہلاکتوں کا الزام فرنٹیئر کور پر ہی لگاتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل
اپیل میں کہا گیا ہے کہ مقصود قلندرانی کے ساتھ حراست میں لیے گئے ان دس افراد کا اب تک کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے اور مقصود کی موت کے بعد خطرہ ہے کہ کہیں ان افراد کا بھی وہی انجام نہ ہو۔

’یہ افراد بھی جن میں سے زیادہ تر کا تعلق قلندرانی قبیلے سے ہے، حراست کے دوران اذیتوں اور ماورائے عدالت قتل کے خطرے سے دوچار ہیں۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کہتی ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے افراد کی گولیوں سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے جس سے علاقے میں ’مارو اور پھینک دو‘ آپریشنز کے بڑھتے ہوئے رجحان کا پتہ چلتا ہے۔

تنظیم کے مطابق بلوچستان میں چوبیس اکتوبر سال دو ہزار دس سے اکتیس مئی سال دو ہزار گیارہ کے دوران تہتر افراد لاپتہ ہوئے جبکہ ایک سو آٹھ افراد کو ممکنہ طور پر ماورائے عدالت قتل کیا گیا جن میں بلوچ سیاسی کارکن، صحافی، اساتذہ اور وکلاء شامل تھے۔

’اس عرصے میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے ان ایک سو آٹھ افراد میں سے کم از کم ترانوے افراد وہ تھے جو قتل سے پہلے لاپتہ ہوگئے تھے۔ مقتولین کے ورثاء اور بلوچ کارکن ان ہلاکتوں کا الزام فرنٹیئر کور پر ہی لگاتے ہیں۔‘

Source: BBC Urdu

3 Comments to “SOS for Qalandranis: General Pasha, please don’t kill and dump them!”

  1. اسّی سالہ بلوچ بھی ’لاپتہ‘

    یہ کیسے ہمارا ملک ہوسکتا ہے۔میرے بھائی میرے کزن کو میری آنکھوں کے سامنے مار دیا: رفیق قلندرانی

    بلوچستان کےضلع خضدار کےعلاقے توتک سےحراست میں لیےگئے جن دس افراد کی رہائی کےلیے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہنگامی اپیل جاری کی ہے، ان میں ایک ضعیف العمر شخص بھی شامل ہیں۔

    اسی سالہ محمد رحیم خان قلندرانی کے بیٹے رفیق قلندرانی نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ان کے والد کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

    ’میرے والد صاحب چل پھر نہیں سکتے وہ اسلحہ کہاں سے اٹھائیں گے۔ ہم تو امن پسند لوگ ہیں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔‘

    اگرچہ فرنٹیئر کور اس کارروائی سے انکار کرتی ہے لیکن رفیق کو وہ دن آج بھی یاد ہے جب ان کے بقول ان کا پورا خاندان اجڑ گیا۔

    ’فجر کا وقت تھا۔جب بہت ساری گاڑیوں کا کاررواں آیا جس میں انٹیلیجنس کے اداروں اہلکار شامل تھے۔انہوں نےاسے گھیرے میں لے لیا اور گاؤں کے باہر ایک گراؤنڈ ہے وہاں ہم سب کو اکٹھا کیا اور اسی گراؤنڈ میں انہوں نے میرے بھائی نعیم اور میرے کزن یحیی کو گولیوں سے بھون دیا۔‘

    لیکن رفیق قلندرانی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد ان کا پورا خاندان بکھرگیا ہے۔

    ’ہمارے علاقے میں سب لوگ تتر بتر ہیں۔ کسی کا کچھ پتہ نہیں ہے اور میں بھی کسی اور جگہ پر ہوں، علاقے میں ہمارا کوئی نہیں ہے ابھی۔ سب چلے گئے ہیں وہاں سے۔ سارا خاندان تتر بتر ہے، کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے ہمارا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن انہوں نے اس تاثر کو رد کردیا کہ وہ ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

    ‘دیکھیں جو ان (سیکیورٹی فورسز) کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں جو اسلحہ رکھتے ہیں وہ پہاڑوں میں ہیں۔ جاکے انہی کے خلاف آپریشن کریں انہی کو پکڑیں۔ ہم تو کھیتی باڑی کرتے ہیں، معصوم لوگ ہیں۔‘

    انہوں نے بتایا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان سے تو نہیں لیکن ان کے ایک کزن سے رابطہ کیا تھا اور معلومات حاصل کی تھیں۔

    رفیق قلندرانی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے انصاف کے لیے پولیس یا عدالت سے رجوع کیا ہے؟ تو ان کا جواب نفی میں تھا اور ان کے پاس اسکی اپنی توجیہ تھی۔

    ‘کیس ہم کیا کریں۔ انہی کی عدالت ہے۔ انہی کا ملک ہے۔ عدالت بھی وہی (سیکیورٹی فورسز) ہیں۔ مارنے والے بھی یہی ہیں۔ کہاں ہمیں انصاف ملے گا اس ملک میں۔’

    رفیق کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسے ہمارا ملک ہوسکتا ہے۔ میرے بھائی میرے کزن کو میری آنکھوں کے سامنے مار دیا۔ ہماری چادر اور چار دیواری کو پامال کیا گیا۔ ہماری ماں بہنیں محفوظ نہیں ہیں اور نہ ہی جائداد محفوظ ہیں تو یہ کیسے ہمارا ملک ہے۔‘

    رفیق کا اصرار تھا کہ ’حکومت صرف بلوچوں کی نسل کشی چاہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ بلوچ دنیا میں ایک قوم کے طور پر پہچانیں جاسکیں۔‘

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/08/110805_baloch_missing_ra.shtml

  2. Detained and missing: Amnesty urges action to save 10 missing Baloch
    Published: August 7, 2011

    Says the men face imminent death risk.
    QUETTA:
    An international human rights organisation appealed for urgent action to save the life of 10 detained and missing Baloch persons who, the organisation believes, face death risk.
    According to Amnesty International (AI), the 10 men were taken into custody on February 18, along with 19 others, during a Frontier Corps (FC) search operation in the town of Tutak, in Balochistan’s Khuzdar district.
    Of them, 18 have since been released while the body of Maqsood Qalandarani, an activist of the Baloch Student Organisation-Azad, was found in a sack in the Jabal-e-Noor area near Quetta on July 16.
    Qalandarani appeared to have been tortured and Amnesty said it fears that the 10 remaining men face the same fate.
    According to local news reports, the police discovered a note in Qalandarani’s pockets, saying he was an ‘agent of the Baloch Liberation Army’.
    The remaining 10, most of whom belong to the Qalandarani tribe, have not been seen since February 18 and are at risk of torture … as well as extrajudicial execution, the rights groups says.
    “Bullet-riddled bodies of abducted men, many showing signs of torture, are being found in increasing numbers across Balochistan and illustrate a growing trend of ‘kill and dump’ operations in the province,” it adds.
    Between October 24, 2010 and May 31, 2011, Amnesty recorded 73 enforced disappearances and 108 possible extrajudicial executions of Baloch activists, teachers, journalists and lawyers.
    According to AI, at least 93 people out of the total 108 killed had been subjected to enforced disappearance.
    The 10 detainees include Atiq Mohammad Qalandrani, Khalilur Rehman Qalandrani, Wasim Rehman, Nisar Ahmed, Aftab Qalandrani, Naseb Rehman Qalandrani, Mohammad Raheem Khan Qalandrani, Dr Mohammad Tahir Qalandrani, Fidah Ahmed Qalandrani and Nadeem Qalandrani.
    The FC spokesperson, when contacted, categorically rejected the allegations.
    “It is a baseless report and the FC did not carry out any operation in Khuzdar nor is there any person in FC custody,” he said.
    Published in The Express Tribune, August 7th, 2011.

    http://tribune.com.pk/story/226045/detained-and-missing-amnesty-urges-action-to-save-10-missing-baloch/

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: