Victims of Taliban-SSP terrorism: Stories from Dera Ismail Khan, Pakistan – by Azizullah Khan

by admin

محمد رمضان اب اس دنیا میں نہیں ہیں

Related post: SOS from D.I.Khan: Save Shias in D.I. Khan from terrorists of Taliban and Sipah-e-Sahaba.

We are cross-posting this article from BBC Urdu. Unlike the usual negligence of Shia genocide by human rights organizations and Pakistani and international media, this article provide first hand account of experiences and perspective of victims of violence by the terrorists of Taliban & Sipah-e-Sahaba in Dera Ismail Khan (an area ignored by urban centric writers and activists), who are backed by Pakistan army/ISI and, if arrested, released by the ISI-backed judiciary.

محمد رمضان پانچ ماہ تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ چکا ہے، عدیل ڈھائی سال سے کومے کی حالت میں ہے اور عنصر عباس کے دونوں بازو تین سال پہلے کٹ چکے ہیں۔

یہ تینوں افراد پاکستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان میں گزشتہ نصف عشرے کے دوران دہشتگردی کے واقعات کی ایک بڑی وجہ گیارہ ستمبر سنہ 2001 کو نیویارک میں ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ کی افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کو سمجھا جاتا ہے۔

اس عرصے کے دوران پاکستان میں دھماکوں، ڈرون حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے بےشمار واقعات میں ہزاروں بےگناہ لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے اور محمد رمضان، عدیل اور عنصر بھی انھی میں سے ہیں۔

ان تینوں افراد کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں، اور اس طرح کے ہزاروں افراد اور پھر ان سے جڑے ان کے خاندان کے لاکھوں افراد ایک تکلیف دہ کرب سے گزر رہے ہیں ۔

عنصر اب پیروں سے کمپیوٹر اور موبائل کا استعمال سیکھ گئے ہیں

’میرا تو کوئی گناہ نہیں تھا، نہ میں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا، پھر میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہوا ہے‘ یہ الفاظ تھے محمد رمضان کے جو ایک بم دھماکے میں زخمی ہوا اور پھر پانچ ماہ بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

آج محمد رمضان اس دنیا میں نہیں ہے لیکن اس کی بیوی اور تین بچے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ محمد رمضان کی بیوی اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئی ہے اور سات سال سے کمر کے تین بچے کبھی ماں کے پاس تو کبھی پھوپھی کے پاس رہنے پر مجبور ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشی محمد رمضان نے ہلاکت سے پہلے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ تنور پر روٹیاں لگانے کا کام کرتا تھا۔ ’ ایک دن میں کام کے لیے گھر سے روانہ ہوا تو راستے میں دوست نے اپنی دکان پر چائے کے لیے بلا لیا، ہم چائے پی رہے تھے کہ اتنے میں پولیس کی گاڑی گزری اور پھر زور دار دھماکہ ہوا‘۔

محمد رمضان نے مزید بتایا کہ دھماکے کے بعد انھیں کچھ پتہ نہیں چلا جب ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھے۔’ کچھ عرصہ اسلام آباد میں علاج کرایا لیکن رقم کی کمی آڑے آئی اور وہ واپس آ گئے۔ اپنا گھر نہیں ہے اس لیے بہن نے پناہ دی ہے جس کے اپنے نو بچے ہیں‘۔

میرا تو کوئی گناہ نہیں تھا، نہ میں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا، پھر میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہوا ہے
محمد رمضان

محمد رمضان یہ کہتے ہوئے کچھ دیر کے لیے خاموش ہوا اور پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ ٹکٹکی باندھ کر مائیکروفون کو دیکھتا رہا اور یہی کہا میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا کہ میرے ساتھ یہ سب کچھ ہوا ہے۔

عدیل ایک فیشن ایبل نوجوان تھا ، ڈیرہ اسماعیل خان جیسے پسماندہ شہر میں بھی مغربی لباس پہننا ، خوبصورت عینک اور اچھی گھڑی کا استعمال اس کا شوق تھا لیکن دہشتگردی کے ایک واقعے وہ میں ایسا زخمی ہوا کہ بستر کا ہو کر ہی رہ گیا ہے۔

عدیل کے والد غلام قاسم نے بتایا کہ ایف اے کرنے کے بعد ایک دکان میں ملازم تھا۔ فروری سنہ دو ہزار نو میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جنازے میں ہونے والے دھماکے میں عدیل زخمی ہوا جبکہ اس کا چچا اس دھماکے میں ہلاک ہو گیا۔

عدیل دھماکے میں زخمی ہونے سے پہلے اور بعد

آج حال یہ ہے کہ عدیل کی ناک میں خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں، رفعِ حاجت کے لیے بیگ لبستر سے لٹکے ہوئے ہیں، ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہو چکے ہیں اور وہ بات کرنے اور سمجھنے سے قاصر ہے۔ آنکھیں کھلی ہیں جن سے وہ جیسے بہت کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن کچھ کہہ نہیں پاتا۔ یہ صورت حال ڈھائی سال سے ہے۔

اب اس میں کون ملوث ہے معلوم نہیں لیکن حالات تو اس وقت سے خراب ہوئے جب سے ضیا ءالحق نے امریکہ کے ساتھ مل کر کر افغانستان میں بڑا کھیل کھیلا تھا۔
عنصر عباس

ان کے والد کا کہنا ہے کہ محدود وسائل میں وہ بیٹے کے اسلام آباد اور ملتان میں چار آپریشن کروا چکے ہیں، ’ڈاکٹر یہی کہتے ہیں کہ عدیل کومے کی حالت میں ہے اور ہو سکتا ہےکہ ٹھیک ہو جائے لیکن کب یہ معلوم نہیں ہے‘۔

عدیل کے والد غلام قاسم نے بتایا کہ انھیں صوبائی حکومت کی جانب سے صرف پچاس ہزار روپے ملے ہیں لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے وعدے کے باوجود کوئی امداد نہیں ملی ہے ۔

ان کے بقول ’دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ کسے الزام دیں اور کسے بے گناہ سمجھیں کچھ پتہ نہیں چلتا‘ جبکہ عدیل کی والدہ کا کہنا ہے کہ انھیں یہ معلوم نہیں کہ ان کارروائیوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے بس وہ یہی جانتی ہیں کہ ان کا لختِ جگر انتہائی تکلیف میں ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گاؤں چاہ سید منور میں آباد ایک ہی خاندان کے بیس سے زیادہ افراد اگست دو ہزار آٹھ میں ہونے والے ایک خود کش دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔

عدیل دھماکے میں زخمی ہونے سے پہلے اور بعد

اس دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والا نوجوان صحافی عنصر عباس بھی شامل تھا۔ دھماکے میں عنصر عباس کے دونوں بازووں پر شدید زخم آئے اور انہیں کاٹنا پڑا، ان کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں بھی ٹوٹیں۔

عنصر اب پیروں سے کمپیوٹر اور موبائل کا استعمال سیکھ گئے ہیں

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال تک وہیل چیئر پر رہے اور اب پیروں سے کمپیوٹر اور موبائل کا استعمال سیکھ گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی اس حالت کے ذمہ دار براہ راست تو شاید طالبان ہی ہیں جنھوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن دراصل وہ فوجی آمر ہیں جنھوں نے امریکہ کی خوشنودی کے لیے اپنے ملک کو تباہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد اگرچہ دہشت گردی کے واقعات میں شدت آئی ہے۔ ’اب اس میں کون ملوث ہے معلوم نہیں لیکن حالات تو اس وقت سے خراب ہوئے جب سے ضیا ءالحق نے امریکہ کے ساتھ مل کر کر افغانستان میں بڑا کھیل کھیلا تھا‘۔

Source: BBC Urdu

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: