What is the difference between Ajmal Pahari and Farogh Naseem?

by admin

Both Farogh Naseem and Ajmal Pahari work for MQM and are loyalist to Altaf Hussain.



MQM’s lawyer Farogh Naseem scolded by SCP on presenting one-sided argument

According to his official profile, “Barrister Dr. Mohammad Farogh Naseem is a leading constitutional lawyer from Pakistan being the youngest but the most qualified lawyer to hold the office of Advocate General of Sindh.”

Not many people know that Mr. Naseem is a long favourite of Altaf Hussain bhai because of his invaluable services to the MQM. Promoted by Mustafa Kamal, Kamran Khan and other leaders and loyalists of the MQM, Mr. Naseem has been receiving many favours from the MQM and hopes to receive similar favours in the future.

In return, Mr. Naseem unashamedly defends and represents a party of Ajmal Paharis and others which is the single major cause of violence in Karachi and other areas of Sindh, a party which has killed thousands of Muhajirs, Pashtuns, Balochs, Sindhis and Punjabis in the last several years.

However, today, for the first time, there was some air of honesty within Pakistan’s Supreme Court when finally some judges took Mr. Naseem to task on his lies while representing the MQM.

The five-member bench, which is headed by Justice Chaudhry, said it was not happy with the “one-sided” arguments being presented by Muttahida Qaumi Movement (MQM) counsel Farogh A Naseem.
The chief justice asked why the MQM had not presented a list of other innocent people killed in Karachi and why only a list of party workers and supporters had been presented.
During the hearing, the MQM counsel also accused the Awami National Party (ANP) and Lyari gang members of involvement in incidents of kidnappings and killings. The chief justice asked where the names of ANP members accused of target killings were in the First Information Reports (FIR) filed.
The MQM counsel said more than 36 people had been killed and their homes torched in Pashtun-dominated areas on August 13. He argued that the MQM had pointed out 26 points in the city where there was a dire need of setting up checkposts.
The MQM counsel also requested the court to review Zulfiqar Mirza’s statement in which he claimed to have issued 300,000 thousand arms licences. (Source: ET)

ل ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کو دلائل کے وقت جج صاحبان کےتند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کے جان اور مال کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی ہے، عدالت کی مداخلت کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا بہتری آئی ہے؟ گزشتہ روز بھی دو لاشیں ملیں ہیں تاہم فروغ نسیم نے انہیں جواب دیا کہ صورتحال پہلے سے کافی بہتر ہے۔

فروغ نسیم نے بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس کے تحت غیر سیاسی اور غیر جانبدرانہ تفتیش کاروں اور پولیس کی تعیناتی کے بغیر شفاف ٹرائل کی امید نہیں کی جاسکتی۔ فروغ نسیم کا موقف تھا کہ شفاف تحقیقات سیاسی وابستگی کی وجہ سے ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں تین باتیں ہیں جس کی وجہ سے حکام کام نہیں کرتے: وہ نااہل ہیں، دانستہ طور پر کام نہیں کرتے یا جرائم پیشہ افراد چالاک ہیں۔

اگر تمام سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں سے جرائم پیشہ افراد کو نکال دیں تو یہ خطہ دنیا کا پرامن خطہ بن جائے گا، یہاں جماعتوں میں جرائم پیشہ گروہوں موجود ہیں جنہوں نے لوگوں کو یرغمال بنا کر رکھا ہے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی
چیف جسٹس نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’آپ کی باتوں سے تو ایسا لگتا ہے کہ عدالت آگئی ہے ادارے متحرک ہوگئے ہیں مستقبل محفوظ ہے اور ماضی کو بھول جائیں جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا ان کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ماحول میں اشتعال ہے غیر جانبدار لوگ کہاں سے آئیں گے۔ ہزاروں مقدمات ہیں اتنے افسر کہاں سے تعینات کیے جائیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کراچی میں موجودگی کے باوجود ہلاکتوں اور اغوا کا سلسلہ جاری ہے، ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی، اے این پی، سنی تحریک الزام در الزام عائد کر رہی ہیں، جب تک ماحول غیر جانبدار نہیں ہوگا صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر مسلح گروہ بنائے جا رہے ہیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ’اگر تمام سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں سے جرائم پیشہ افراد کو نکال دیں تو یہ خطہ دنیا کا پرامن خطہ بن جائے گا، یہاں جماعتوں میں جرائم پیشہ گروہوں موجود ہیں جنہوں نے لوگوں کو یرغمال بنا کر رکھا ہے۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ساری جماعتوں کے پاس مسلح گروہ ہیں۔ ان جماعتوں کے منشور دیکھیں ان میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔

فروغ نسیم نے تجویز پیش کی کہ پولیس، رینجرز، انٹیلی جنس ادارے واقعات کی تحقیقات کریں، ہائی کورٹ کا جج اس کی نگرانی کرے، جس کے بعد کوئی یہ الزام عائد نہیں کرے گا کہ افسر متعصب تھا۔

جسٹس انور ظہیر نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم بھی ان ہی اداروں پر مشتمل ہوتی ہے جس کی رپورٹ کوتسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں فروغ نسیم نے کہا کہ وہ تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جو بھی ملزم ہے اس سزا دی جائے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ’کوئی سیاسی جماعت ہڑتال کا اعلان کرتی ہے، شام تک بیس تیس گاڑیاں جلتی ہیں، پندرہ لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں مگر کوئی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا حالانکہ ہڑتال کا پس منظر تو سیاسی ہوتا ہے‘۔

ایک موقع پر فروغ نسیم نے کہا کہ بے قصور مہاجروں کو اغوا کرکے قتل کیا گیا جس پر جسٹس سرمد جلال نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’کیا صرف اردو بولنے والے معصوم ہوتے ہیں، پٹھان اور بلوچ بے قصور اور معصوم نہیں ہیں‘۔

ایک اور موقع پر جب فروغ نسیم نے کہا کہ لیاری گینگ وار کے لوگ شہریوں کو اغوا کرکے قتل کرتے ہیں، تو جسٹس غلام ربانی نے ان سے سوال کیا کہ وہ صرف لیاری کی بات کیوں کرتے ہیں پورے شہر کی بات کریں۔

اس سے پہلے جمعرات کو عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی فریق بننے کے لیے درخواست منظور کر لی تھی۔ ایم کیو ایم کی جانب سے سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ ایم کیو ایم کراچی میں ایک اہم سیاسی مقام رکھتی ہے لیکن مختلف فریق اس پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں جس پر ایم کیو ایم نے عدالت کی معاونت کرنے اور حقائق سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ رواں سال ایم کیو ایم کے دو سو تیس کارکن اور ہمدرد ہلاک ہوئے جن میں سے تینتالیس کو اغواء کیا گیا۔

فروغ نسیم نے تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی فہرستیں بھی عدالت میں پیش کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں پیپلز امن کمیٹی کے افراد نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو اغواء کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی نگرانی میں دہشت گردوں نے مسافر بسوں سے مہاجر نوجوانوں کو شناخت کر کے ان کا قتل کیا۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لیاری، قصبہ کالونی اور گلستانِ جوہر میں چوکیاں قائم ہیں جہاں پر اس وقت کسی بھی ادارے کا اہلکار موجود نہیں ہے۔

فروغ نسیم نے تمام جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نےموجودہ حکومت میں جاری کیے گئے تین لاکھ اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے اور پولیس میں سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی دس ہزار بھرتیاں بھی منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان کے دلائل کے دوران ان سے دریافت کیا کہ ’آپ نے بھتہ وصولی کی روک تھام کے بارے میں کوئی تجویز نہیں دی جس پر انہوں نے کہا کہ ہم چندہ اور بھتہ وصولی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے سنہ دو ہزار دو میں منصب سنبھالنے کے چند دن میں کراچی میں بھتہ وصولی کے حوالے سے ایک آرڈیننس جاری کیا تھاجس کے تحت گھروں پر جاکر چندہ نہیں لیا جاسکتا۔ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی پر تین ماہ کی قید اور دس ہزار روپے جرمانہ کی سزا ہے۔

Source: BBC Urudu

5 Comments to “What is the difference between Ajmal Pahari and Farogh Naseem?”

  1. Well, Chief Justice is one hundred percent right to ask for a comprehensive report to point out all the murders and crimes involving all ethnicities in Karachi. MQM is shamelessly presenting only one-sided picture of the ‘muhajirs’ being victimized. What about the Punjabis, Pathans, Balochs, Sindhis, and whoever else that was killed or maimed? As a person from Urdu speaking community, (and I hate to categorize myself as such since I only consider myself a Pakistani and nothing else) I am disappointed that a party, which not too long ago was making tall claims to penetrate Punjab, Kashmir, and other areas of Pakistan, is so woefully inadequate as to fail to mention victims belonging to other ethnicities. That’s why they say ‘talk is cheap.’ This would have been an excellent time for MQM to prove that they want to represent all the people of Pakistan, by demonstrating their fairness and equal treatment of all. We are a nation of oppressed people not a nation of Sindhis, Punjabis, Balochs, & Pathans. I know that there are many educated people in MQM. It would behoove them well to think to raise their voice for all of us not just for one community. “Rising tide lifts all boats.”

    Arzoo
    http://tribune.com.pk/story/247849/situations-like-karachi-lead-to-military-takeovers-chief-justice/

  2. The petitioners Saleem Butt and Tahir Khokhar requested the high court for immediate polling on two seats of Kashmiri immigrants’ in Karachi and that recent AJK elections should be declared null and void.

    Former Advocate General Barrister Dr. Farogh Naseem appeared on behalf of the MQM before the court and filed the petition.

    after filing petition, Farogh Naseem said the SHC has power to declare Election Commission’s orders, regarding postponement of vote on few seats of Azad Kashmir, as null and void.

  3. This man is a joker.

    KARACHI: MQM lawyer in the suo moto Karachi violence case, Farogh Nassem said Thursday that across the board accountability is required and his client (MQM) has told him that they have zero tolerance for criminal activity, Geo News reported.

    Speaking to the media outside the Supreme Court Karachi Registry, Naseem said Rangers pickets are required in violence-hit areas of Karachi such as Kati Pahari and Qasba Colony.

    Earlier during proceedings of the case, Nassem said that according to section 3 of article 184 of the constitution, the Supreme Court could only issue guidelines. He added that the SC has to figure out how investigations into torture would be conducted so that they could yield positive results.

    http://www.thenews.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=22343&title=Karachi-violence:-MQM-lawyer-says-across-the-board-accountability-required

  4. I am sick and tired of seeing this liar (lawyer?) in Kamran Khan and Dr Danish’s programs. All MQM propagandists. Just like Shaheryar Mirza, Cafe Payala, Five Rupees (Ahsan Butt), Tazeen, Urooj Zia, These Long Wars (TLW) and other subtle propagandists.

  5. Why only this particular lawyer is being signaled out. Just like all the lawyers he has to represent to best of his ability.. Had the other politician and leaders being honest. Then, its justified in signaling this particular lawyer. Since, he is representing the MQM… he is being signaled out. As far as other ethnic group not particularly mentioned by Mr. Naseem he was legal counsel for his client .. MQM. and not representing the other ethnic group Ms. Arazoo. Its not the case that he does not empathy’s with them.. but he is legally bound to represent his clients. The other lawyer in the country can also represent other ethnic group . When MQM workers / urdu speaking are being killed , no one raises the questions and come forward to represent them…?? Pro – Bano… so before mud singling… know some facts and requirement.
    It has a bit late to reply… late is better then never…

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: