Constable Riazuddin: An unsung hero of Pakistan’s war on TTP-SSP-LeJ

by admin

No vigils, no columns for Constable Riazuddin who gave his life to save media persons in Peshawar Press Club


’زندگی کا نعم البدل نہیں‘

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پولیس کانسٹیبل ریاض دین پشاور پریس کلب پر حملہ کرنے والے خودکش حملہ آوار کو گیٹ پر روکتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

’میں اپنے والد صاحب کی کمی کو بہت زیادہ محسوس کرتا ہوں لیکن جب میں ان کی شہادت کو یاد کرتا ہوں تو اس سے مجھے بہت زیادہ طاقت ملتی ہے کیونکہ ان کی قربانی کے باعث ڈیڑھ سو کے قریب زندگیاں محفوظ رہی تھیں۔‘

یہ الفاظ چودہ سالہ عزیر ریاض کے ہیں جس کے والد پولیس کانسٹیبل ریاض دین نے بائیس دسمبر دو ہزار نو کو اپنی جان کی پروا کیے بغیر پشاور پریس کلب پر حملہ کرنے والے خودکش حملہ آور کو گیٹ پر روک دیا تھا۔

اس حملے میں ریاض دین اور پریس کلب کے اکاؤنٹینٹ سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد صحافی زخمی ہوئے تھے۔ ریاض دین پشاور کے مضافاتی علاقے پٹوار خانہ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ کئی سالوں سے پشاور پریس کلب میں سکیورٹی کے فرائض پر مامور تھے۔

جان کی قربانی کا کوئی نعمل البدل نہیں ہوتا، ہمارے والد صاحب تو واپس نہیں آسکتے اور ایسے میں جب حکومت اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی تو اس سے مایوسی بڑھ جاتی ہے۔
عزیز ریاض
عزیر ریاض نے بتایا کہ ان کا گھرانہ تین افراد پر مشتمل ہے جس میں وہ، ان کے چھوٹے بھائی اور ان کی ماں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم جب ماں بیٹے کسی خاص موقع پر گھر میں جمع ہوتے ہیں تو جس کرسی پر ہمارے والد صاحب بیٹھا کرتے تھے وہ کرسی خالی رہتی ہے جس سے ہمیں بہت دکھ پہنچتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ والد کی وفات کے بعد پولیس شہداء پیکیج سے انھیں فائدہ مل رہا ہے لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے ان سے جو وعدے کیے گئے تھے انھیں ابھی تک پورا نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور صدر پاکستان کی جانب سے تمغہء امتیاز اور کچھ نقد امداد کے اعلانات کیے گئے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے خود جا کر اسلام آباد میں ایک تقریب میں شرکت بھی کی تھی لیکن اس حوالے سے ابھی عملی طور پر کچھ سامنے نہیں آیا ہے۔

وادی سوات میں جب دو ہزار سات میں طالبان نے حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا تو وہاں سے پولیس اہلکاروں پر باقاعدہ حملوں کا آغاز ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کا دائرہ دیگر اضلاع تک بھی پھیلنے لگا
عزیر ریاض کے بقول ’جان کی قربانی کا کوئی نعمل البدل نہیں ہوتا اور جو تھوڑے بہت پیسے ہمیں مل رہے ہیں یہ تو شاید چند سالوں کے بعد بند ہوجائیں گے لیکن ہمارے والد صاحب تو واپس نہیں آ سکتے اور ایسے میں جب حکومت اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی تو اس سے مایوسی بڑھ جاتی ہے۔‘

خیبر پختونخوا میں چند سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جاری مبینہ جنگ میں پولیس اہلکاروں پر حملے ایک ایسا پہلو ہےجسے کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

کلِک شدت پسندوں کا نشانہ پولیس

وادیء سوات میں جب دو ہزار سات میں طالبان نے حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا تو وہاں سے پولیس اہلکاروں پر باقاعدہ حملوں کا آغاز ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کا دائرہ دیگر اضلاع تک بھی پھیلنے لگا۔

ایک ایسا وقت بھی آیا کہ ان حملوں میں انتہائی شدت آئی اور ایسا لگا کہ جیسے صوبے میں پولیس فورس کا وجود ہی نہیں کیونکہ پولیس اہلکار انتہائی دباؤ کی حالت میں تھے۔ کئی اضلاع میں پولیس اہلکار شدت پسندوں کے خوف کے باعث گشت تک نہیں کر سکتے تھے جس کی وجہ سے حکومت کی رِٹ کمزور ہوئی۔

یہاں تک کہا جاتا ہے کہ کئی اہلکاروں نے داڑھیاں رکھ لی تھی یعنی انہوں نے اس بات کو دل سے تسلیم کرلیا تھا کہ اب ان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔

خیبر پختون خوا میں آٹھ مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے خودکش حملہ آور سے بغل گیر ہوکر اس کو آگے جانے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔
سابق پولیس سربراہ، ملک نوید
ان حملوں میں سپاہی سے لے کر ڈی آئی جی رینک تک کے افسران جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ تاہم تمام تر مشکلات اور نقصانات کے باوجود پولیس اہلکار ڈٹے رہے اور اب زیادہ تر علاقوں پر انہوں نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

عام طورپر یہ کہا جاتا ہے کہ خودکش حملہ آور کا کوئی توڑ نہیں ہے لیکن خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں نے متعدد موقعوں پر خودکش حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی اور ان کے منصوبوں کو ناکامی سے دوچار کیا ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس کے سابق سربراہ ملک نوید کا کہنا ہے کہ صوبے میں آٹھ مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے خودکش حملہ آور سے بغل گیر ہو کر اس کو آگے جانے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

چند سال پہلے تک ان واقعات میں مرنے والے پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو حکومت کی طرف سے کوئی خاص مراعات حاصل نہیں تھیں اور ان کی تنخواہیں بھی اچھی نہیں تھیں لیکن اب ایسے اہلکاروں کو پولیس ڈیپارٹمینٹ سے ایک خصوصی پییکج دیا جاتا ہے جس میں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو بیس لاکھ روپے دیے جاتے ہیں جبکہ ان کے بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرتی ہے۔

Source: BBC Urdu

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: