An interview with Subedara Bibi, a brave Toori mother who sacrificed three sons in war with Haqqani Taliban & LeJ

by admin

جس قوم و ملت کی ایسی مائیں ہوں کہ جو اپنے پانچ بیٹوں میں سے تین بیٹے راہ حق میں فدا کرنے کے بعد بھی اس خواہش کا اظہار کریں کہ کاش میرے پانچ بیٹے ہی کربلا والوں کی راہ میں شہید ہو جاتے، جس قوم کی ماؤں کا ایسا جذبہ ہو اس قوم کو اسلام اور پاکستان دشمن، طالبان دہشتگرد کھبی بھی شکست نہیں دے سکتے۔

اس عظیم بیوہ خاتون کا نام بی بی صوبیدارہ ہے، جنکی تاریخ پیدائش شناختی کارڈ کے مطابق 1944ء درج ہے۔ ان کے شوہر کا نام لعل جان مرحوم ہے، ایک بیٹی کے علاوہ پانچ بیٹے غلام حیدر، نور حیدر، نور حسین، گل حسین اور گلاب حسین ہیں جن میں سے ایک بیٹی کے علاوہ گل حسین اور گلاب حسین، یعنی تین اولادیں حیات ہیں جبکہ تین بیٹے غلام حیدر، نور حیدر اور نور حسین راہ حق میں جام شہادت نوش کر کے زندہ و جاوید بن چکے ہیں۔ شہداء کی ماں نے بتایا کہ جب بھی میرے شہید بیٹے کا جنازہ آتا تو میں رونے کی بجائے انہیں سلامی دے کر مبارک باد دیتی اور پھر ذکر سیدالشہداء ع و ماتم کرتی اور انکے کڑیل جوان علی اکبر ع کی یاد میں خوب گریہ کرتی۔

پاراچنار کرم ایجنسی کے اہل تشیع طوری اور بنگش قبائل نے یوں تو قیام پاکستان سے لے کر استحکام پاکستان تک پاک افغان سرحد پر رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان اور اسلام دشمن دہشتگرد عناصر، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور طالبان کی جارحیت اور لشکرکشیوں سے اپنا دفاع کیا ہے بلکہ مملکت خدادداد پاکستان کی پاک افغان سرحد کا بھی بغیر کسی معاوضے کے دفاع کرتے ہوئے سینکڑوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔

اپریل 2007ء سے لے کر تادم تحریر چار سال سے زائد کے عرصے میں چودہ سو سے زائد اہل تشیع طوری اور بنگش قبائل نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور جام شہادت نوش کیا، ہزاروں کی تعداد میں زخمی و معذور ہو چکے ہیں۔ ایسی کئی مائیں ہیں جن کے دو دو فرزند جام شہادت نوش کر چکے ہیں یا پھر خیواص گاؤں میں ایسے گھرانے بھی ہیں جن میں سے بعض گھروں کے تمام افراد شہید ہو چکے ہیں اور مزاحمت، دفاع و استقامت پر مبنی قربانیوں کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

اسلام ٹائمز کی ٹیم نے 66 سالہ ایک ایسی ماں سے انٹرویو لے کر قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، جو پاراچنار کرم ایجنسی کے دور دراز پسماندہ گاؤں جالندھر میں رہائش پذیر ہیں۔ یاد رہے کہ جالندھر ایک ایسا گاؤں ہے جس کی حدود ایف آر کرم کے علاقے پاڑہ چمکنی(ایف آر کرم کا یہ وسیع علاقہ کئی دہائیاں پہلے اورکزئی ایجنسی سے الگ کرکے کرم ایجنسی میں شامل کیا گیا تاکہ کرم ایجنسی میں آبادی کا توازان بگاڑ کر اہل تشیع کی اکثریت کو کم کرکے ترقیاتی کاموں اور دیگر وسائل کی بندر بانٹ کی جا سکے، نائن الیون کے بعد ایف آر کرم کو وسطی یا سنٹرل کرم کا غیر منطقی نام دیا گیا) سے ملتی ہیں۔ ایف آر کرم سے جالندھر گاؤں کی حدود ایک پہاڑی پر ملتی ہیں جبکہ ایف آر کی پہاڑیاں زیڑان و کڑمان کی طرح سپین غر پہاڑی سلسلے کے ذریعے افغانستان کی مشہور تورا بورا پہاڑی سے ملتی ہیں۔

ایف آر کرم یا وسطی یا سنٹرل کرم کے علاقے میں حال ہی میں سکیورٹی فورسز نے وزیرستان اور افغانستان سے آ کر آباد ہونے والے طالبان دہشت گردوں کے خلاف سپین غر نامی فوجی آپریشن بھی شروع کر رکھا تھا۔ ابتداء میں اس کے اہداف یہ بیان کئے گئے تھے کہ اس علاقے سے دہشتگرد طالبان کا خاتمہ کر کے پانچ سال سے بند ٹل پاراچنار روڈ پر آمدورفت کو محفوظ بنا کر کھول دینا ہے لیکن مضحکہ خیز طور پر آپریشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن ٹل پاراچنار روڈ اب تک بند پڑا ہے اور پاراچنار سمیت اپر کرم کے عوام پانچ سالوں سے محصور ہو کر ظلم و جبر کا شکار بنے ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز کی ٹیم جب تین شہداء کی اس عظیم ماں کا انٹرویو لینے کے لئے جالندھر گاؤں پہنچی تو بتایا گیا کہ چند لمحے بعد شہداء کی ماں جالندھر گاؤں کے مرکزی امام بارگاہ کے کھلے صحن و برآمدے میں انٹرویو کے لئے آئیں گی اور یوں وہ عظیم خاتوں آئیں کہ جن کے ساتھ ملاقات اور سوالات کر کے محسوس ہوا کہ بیٹوں کی شہادت کے بعد بھی وہ صبر، ہمت اور استقامت کی لازوال مثال ہیں۔

شہدا کی ماں، اس عظیم بیوہ خاتون کا نام بی بی صوبیدارہ ہے، جنکی تاریخ پیدائش شناختی کارڈ کے مطابق 1944ء درج ہے۔ ان کے شوہر کا نام لعل جان مرحوم ہے، ایک بیٹی کے علاوہ پانچ بیٹے غلام حیدر، نور حیدر، نور حسین، گل حسین اور گلاب حسین ہیں جن میں سے ایک بیٹی کے علاوہ گل حسین اور گلاب حسین، یعنی تین اولادیں حیات ہیں جبکہ تین بیٹے غلام حیدر، نور حیدر اور نور حسین راہ حق میں جام شہادت نوش کر کے زندہ و جاوید بن چکے ہیں۔ شہداء کی ماں نے بتایا کہ جب بھی میرے شہید بیٹے کا جنازہ آتا تو میں رونے کی بجائے انہیں سلامی دے کر مبارک باد دیتی اور پھر ذکر سیدالشہداء ع و ماتم کرتی اور انکے کڑیل جوان علی اکبر ع کی یاد میں خوب گریہ کرتی۔ ان تین شہداء کا سال شہادت اور جائے شہادت شہداء کی ماں کے مطابق کچھ اس طرح سے ہے۔

شہید غلام حیدر: غلام حیدر ایک بہادر جنگجو اور راکٹ لانچر و مارٹر گن کے ماہر تھے، یہ اگست سے نومبر 2008ء لوئر کرم کے شیعہ علاقوں پر وزیرستان و دیگر علاقوں سے آئے ہوئے طالبان دہشتگردوں کی لشکر کشی اور حملوں کی مزاحمت میں مشہور مورچے درگی سر میں دشمن سے برسرپیکار تھے اور وہیں انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔

شہید نورحیدر: ایف سی میں ملازم تھے اور چودہ سال تک نوکری بھی کر چکے تھے، 1996ء کے محرم میں چھٹیوں پر گھر آئے تھے، ہمارے گاؤں جالندھر میں حضرت سکینہ بنت حسین ع کی شہادت کے سلسلے میں چھوٹے بچوں کا ماتمی جلوس ہوتا ہے۔ اس جلوس کی حفاظت کے لئے پاڑہ چمکنی سے متصل پہاڑی پر دہشتگرد طالبان کے حملے کے پیش نظر نور حیدر گاؤں کے دیگر جوانوں کے ہمراہ پہرہ دے رہا تھا کہ وقت کے ظالموں و یزیدیوں کے ہاتھوں شہید ہو گیا۔ (یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ستمبر 1996ء میں پاراچنار کرم ایجنسی اور اس کے مضافات میں شیعہ و سنی فساد برپا کر کے اس کو روکنے کے بہانے اس وقت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کے حکم پر ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی فورسز کے دستے پاراچنار پہنچ گئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہفتہ کے اندر اندر یہ سکیورٹی فورسز پاک افغان سرحد پر واقع پاراچنار کے اہم ترین راستے سے افغانستان میں داخل ہو گئیں اور دارالحکومت کابل سمیت پورے افغانستان میں نام نہاد شریعت اور طالبان حکومت کا اعلان کر دیا گیا۔ (اضافہ از اسلام ٹائمز)

شہید نور حسین: 1993ء میں جالندھر گاؤں اور اس سے متصل پاڑہ چمکنی میں آباد طالبان دہشتگردوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد پہاڑی پر لڑائی میں شرکت کرنے کے لئے اپنا اسلحہ و بندوق لے جانے سے پہلے بندوق چیک کر رہے تھے کہ اچانک گولی چل جانے سے جام شہادت نوش کر گئے۔

اسلام ٹائمز نے شہداء کی ماں سے جو چند سوالات کئے ان کے جوابات یقیناً قارئین اور کڑیل جوانوں کی ماؤں کے لئے مشعل راہ ثابت ہونے کے علاوہ اسلام اور پاکستان دشمن طالبان دہشتگردوں کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں ہیں۔

اسلام ٹائمز:آپ کے پانچ بیٹوں میں سے تین شہید ہو چکے ہیں شہداء کے جنازوں پر اور اب انکی شہادتوں کے بعد آپکے کیا تاثرات ہیں؟

شہداء کی ماں: میرے بیٹے میرے مالک و پروردگار نے مجھے امانت کے طور پر دیئے تھے اور اپنی امانت ایک عظیم ہدف اور مقصد کے لئے واپس لے لی، اگر میرے دو اور بیٹے بھی اس راہ میں چلے جائیں تو میں صبر اور شکر کے علاوہ کچھ نہیں کہوں گی۔ اسی مرکزی امام بارگاہ جالندھر میں میرے بیٹے غلام حیدر شہید کی میت لائی گئی اور میں نے امام بارگاہ پہنچتے ہی اسے دیکھنا چاہا، اسے غسل دینے کی تیاریاں ہو رہی تھی، میں نے اصرار کیا کہ مجھے غلام حیدر کو غسل سے پہلے دیکھنا ہے لیکن مجھے ماں ہونے کے ناطے نہیں دیکھنے دیا (کیونکہ ماں کا دل نازک ہوتا ہے ) جب اسے غسل دے کر کفن میں ملبوس کر دیا گیا تو مجھے دیکھنے کی اجازت دی گئی تو میں نے بڑھ کر شہید کو سلام کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی، لیکن ایک حسرت دل میں رہی کہ کاش میں غلام حیدر کے سینے پر خون اور زخم کے نشان اس کو غسل دینے سے پہلے دیکھ لیتی۔ میرا دوسرا بیٹا نور حیدر جو حضرت بی بی سکینہ بنت حسین ع کی شہادت کی مناسبت سے بچوں کے جلوس کی سکیورٹی کے لئے پہاڑی پر پہرہ دے رہا تھا مجھے اس کی شہادت کی خبر سہ پہر تین بجے کے قریب ملی، خبر ملتے ہی میں بےاختیار پہاڑی کی طرف روانہ ہوئی چونکہ بلند و دشوار پہاڑی ہونے کی وجہ سے مجھے پہاڑی پر چڑھنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی اس لئے میں نے حضرت علی اکبر ع کی ماں کو صدا دی اور مجھے اللّہ کے کرم اور علی اکبر ع کی ماں کے وسیلے سے پہاڑی پر چڑھنے کی ہمت ملی جبکہ میرے تیسرے بیٹے نور حسین نے شام ڈھلے جام شہادت نوش کیا، اور اب میں ان کی شہادت کے بعد بھی بہت مطمئن ہوں اور اللّہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے یہ رتبہ ملا اور خدا نے مجھے اس لائق سمجھا۔

اسلام ٹائمز: آپ کی زندگی کا کوئی ایسا یادگار واقعہ جس کو آپ بھول نہ سکی ہوں یا جس کے اثرات آپکی زندگی پر ابتک پائے جاتے ہوں؟

شہدا کی ماں: کئی سال پہلے کا ایک واقعہ جو میرے لئے بعد میں بالکل سچ ثابت ہوا، میں اپنے گھر کے قریب تندور میں روٹی پکا رہی تھی کہ اتنے میں ایک فقیر بابا آیا، میرے پانچوں بیٹے اس وقت میرے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ غلام حیدر چائے پی رہا تھا۔ میں نے فقیر بابا کو سلام کیا تو اس فقیر نے مجھے کہا کہ آج کل تو لوگ فقیروں کے پیچھے کتے چھوڑتے ہیں، آپ نے مجھے سلام کیا!!! اس کے بعد فقیر نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ مجھے اپنا ایک بیٹا حضرت علی ع کے نام پر ہدیہ دے سکتی ہیں تو میں نے جواب میں کہا آپ ایک بیٹے کی بات کر رہے ہیں، علی ع کے نام پر میرے پانچوں بیٹے آپ کے ہو گئے۔ اس پر فقیر نے کہا کہ آپ برداشت نہیں کر سکیں گی تو میں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اپنے سینوں پر ہاتھ رکھ کر فقیر کو اشارے سے کہیں کہ ہم حاضر ہیں، اس پر میرے تینوں بیٹوں جو اب شہید ہو چکے ہیں، نے اپنے سینوں پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا۔ چونکہ میرے دوسرے دو بیٹے گل حسین اور گلاب حسین اس وقت بہت ہی چھوٹے تھے اسلئے وہ ہاتھ سینے پر رکھنے کی بجائے دوڑ پڑے اس پر میں نے خود اٹھ کر ان دونوں کو پکڑ کر ان کے سینوں پر ہاتھ رکھوایا۔ یہ ماجرا دیکھ کر فقیر بابا رو پڑا اور فورا وہاں سے چلا گیا۔

اسلام ٹائمز:آپ پہلے دور اور آج کے دور میں کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟

شہدا کی ماں: محمد و آل محمد صل اللّہ علیہ و آلہ وسلّم اور (اہلبیت اطہار علیھم السلام) کے پیروکاروں پر ہر دور میں ظلم و ستم ہوتے رہے ہیں، لیکن آج کل طالبان کے فتنے کے عام ہونے کے بعد مظالم و امتحانات میں اضافہ ہو گیا ہے لیکن اہلبیت ع کے پیروکاروں نے آج کے یزیدیوں اور دہشتگرد طالبان کو بھرپور شکست دی، جو انکی آنی والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔

اسلام ٹائمز: بیٹوں کے شہادتوں کے بعد کبھی خواب میں ان کو دیکھا؟

شہدا کی ماں: نور حسین کی شہادت کے بعد میں نے اپنے شوہر لعل جان مرحوم کو خواب میں دیکھا، میں نے دیکھا کہ تین کمرے بنے ہوئے تھے اور ہر کمرے کے ساتھ ایک ایک زرد رنگ کا تالا اور چابی بھی موجود ہے، لعل جان نے مجھ سے کہا کہ اس میں سے کوئی سا بھی کمرہ آپ لے لو تو میں نے سوال کیا کہ ان کمروں میں کھانے پینے کا بھی کوئی بندوبست ہے یا نہیں؟ اس پر لعل جان نے کہا کہ آپ خاموشی سے انتظار کرتی رہو کھانا پینا آپ کو اس دروازے کے ذریعے آتا رہے گا۔ اسی طرح میں نے ایک اور خواب اس وقت دیکھا جب میرا بیٹا غلام حیدر زندہ تھا، جبکہ باقی دو بیٹے نور حیدر و نور حسین جام شہادت نوش کر چکے تھے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے گھر کے نزدیک کھیتوں اور باغوں پر ایک جہاز ہوا میں گھوم پھر رہا تھا اور اس جہاز سے کچھ پرچے بھی گر رہے تھے۔ جہاز جب نیچے آیا تو اس میں دو بندے بیٹھے ہیں، ان میں سے ایک زنجیر کے ساتھ بندھا ہوا تھا، اچانک جہاز سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔۔۔۔غلام حیدر!! غلام حیدر!!۔۔میں نے خواب ہی میں غلام حیدر سے پوچھا کہ انہوں نے آپ کو اور کیا کہا تو غلام حیدر نے مجھے کہا کہ خود ہی پتہ چلے گا۔۔جب میں اس خواب سے بیدار ہوئی تو غلام حیدر سے یہ خواب بیان کیا تو وہ ہنس پڑا اور مجھے کہا کہ ماں اس خواب میں ہی بہتری ہو گی۔

اسلام ٹائمز:آپ کے شہید ہونے والے بیٹے جب زندہ تھے تو ان کی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ جو آپ کو بار بار یاد آتا ہو؟

شہداء کی ماں:میرے شہید بیٹوں میں سے غلام حیدر کی شادی ہو چکی تھی جبکہ باقی دو کڑیل جوان شہیدوں کی شادیاں نہیں ہوئیں تھیں۔ غلام حیدر کو اللہ نے دو بیٹیاں عطا کی ہیں جب غلام حیدر میدان جنگ کی طرف جا رہا تھا تو مجھے کہا کہ ماں میں جنگ کے لئے جا رہا ہوں اور یہ دونوں بیٹیاں آپ کے حوالے، اس پر میں نے کہا کہ میرے حوالے نہ کرو بلکہ خدا کے حوالے کرو، اس پر غلام حیدر نے کہا کہ ہاں باب الحوائج حضرت عباس علمدار ع کے صدقے آسمانوں اور زمین کے مالک اللہ کے حوالے۔

اسلام ٹائمز: بیٹوں کی شہادت کے بعد کیا کسی تنظیم یا مخیر حضرات نے آپ کی کوئی معاونت یا مدد کی ہے؟

شہداء کی ماں: جب بھی کسی شخص نے امداد یا اشیائے خوردونوش اور راشن لا کر مجھے دینے کی کوشش کی تو میں نے ہمییشہ انکار ہی کیا، (اس بات کی تصدیق انٹرویو کے وقت امام بارگاہ میں موجود گاؤں کے افراد نے بھی کی کہ آج تک شہداء کی ماں نے کسی بھی شخص سے کوئی امداد قبول نہیں کی ) کیونکہ میں نے اپنے بچے مال و دولت حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ خدا کے لئے، خدا کی راہ میں دیئے ہیں۔ ہاں؛ غلام حیدر کی بیوہ اور بیٹیوں کے ساتھ اگر کوئی اچھائی یا کارخیر رقم و راشن دینا چاہے تو میں نے انہیں اجازت دی ہے کہ وہ لے سکتے ہیں لیکن میں نے خود آج تک ایک پائی بھی نہیں لی۔

اسلام ٹائمز: آپ کی کوئی ایسی خواہش یا آخری ارمان ہو جو پورا ہو جائے؟

شہدا کی ماں: میرے شوہر کی وفات کے بعد جب میرے چھوٹے بیٹے رہ گئے تو میں اس وقت گاؤں کی بھیڑ بکریاں (گلہ بانی) چرا کر اپنے بچوں کے لئے رزق ہلال کما کر انہیں کھلاتی تھی لیکن جب میرے بیٹے بڑے ہوئے اور غلام حیدر و نور حیدر ایف سی میں ملازم ہوئے تو پھر میں نے بھیڑ بکریاں چرانا چھوڑ دیں۔ اب میری ایک ہی خواہش ہے کہ میں اپنے شہید بیٹوں کے پاس جانے سے پہلے سید الشہداء حضرت امام حسین ع کی زیارت سے مستفید ہونے کے لئے کربلا جانا چاہتی ہوں۔ جب شہداء کی ماں سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی اس حوالے سے یعنی امام حسین ع کی زیارت کربلا پر جانے کے لئے آپ سے تعاون کرنا چاہے یا آپ کو لے جانا چاہے تو کیا آپ اس کی اجازت دیں گی؟ اس پر شہداء کی والدہ نے کہا کہ اگر خدا ایسا کوئی وسیلہ بناتا ہے تو مجھے امام حسین ع کی زیارت کے لئے یہ قبول ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا تو میں جالندھر گاؤں کی امام بارگاہ میں امام حسین ع کو سلام کرنے اور زیارت کرنے کے لئے ویسے بھی اکثر اوقات آتی رہتی ہوں۔

اسلام ٹائمز:ہم آپ جیسی عظیم ماں کے حوصلے عزم و استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں، کیا آپ اپنا کوئی پیغام دینا چاہیں گی بالخصوص ملک اور اسلام دشمن دہشتگرد طالبان کے نام؟

شہداء کی ماں: خداوند عالم، محمد و آل محمد صل اللّہ علیہ و آلہ وسلّم اور (اہلبیت اطہار علیھم السلام) کے پیروکاروں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور تمام محبان علی علیہ السلام کی ماؤں کی گود اجڑنے سے محفوظ رکھے جب کہ محمد و آل محمد صل اللّہ علیہ و آلہ وسلّم اور (اہلبیت اطہار علیھم السلام) کے دشمنان دہشتگرد طالبان کے لئے میرا یہ پیغام ہے کہ ابھی میرے دو مزید بیٹے زندہ ہیں اور اگر راہ حق کے لئے انہیں بھی قربان کرنا پڑے تو میں اس پر بھی شکر اور فخر کروں گ

Source: Islam Times

2 Comments to “An interview with Subedara Bibi, a brave Toori mother who sacrificed three sons in war with Haqqani Taliban & LeJ”

  1. Video report on how Pakistan army is supporting Taliban in killing Toori Shias in Parachinar

  2. Pakistani Shias demonstrate against ISI’s role in Shia massacres in Quetta

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: