Memogate: Mr. P kon tha? – by Safdar Abbas Syed

by admin

President Zardari in a meeting Mr. P and Mr. P

زرداری حکومت گرانے کے لیے سرگرم ’مسٹر پی‘ کون تھا؟

لندن (صفدر عباس سید) پاکستان میں’میموگیٹ‘ کو لیکر منتخب حکومت کے گرد تواپوزیشن جماعتیں اور میڈیا گھیرا تنگ کرتے جا رہے ہیں لیکن کسی نے ابھی تک یہ نہیں پوچھا کہ سینئر پاکستانی سفارتکار کے ساتھ بلیک بیری مسیجنگ تبادلے میں پاکستانی امریکن بزنس مین منصور اعجاز نے جس ’مسٹر پی‘ کا ذکر کیا ہے کہ اس نے اہم عرب رہنماؤں سے ’زیڈ‘ کو فارغ کرنے کے اجازت لے لی ہے وہ کون تھا؟

منصور اعجاز اور سینئر پاکستانی ڈپلومیٹ کے درمیان بلیک بیری مسیجنگ کے ذریعے ہونے والے مختصر پیغامات (SMS) کے تبادلے کو ذہن میں رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ’زیڈ‘ صدر آصف علی زرداری ہیں جنہیں فارغ کرنے کے لیے ’مسٹر پی‘ نے بقول منصور اعجاز عرب رہنماؤں سے اجازت بھی لے لی ہے اور پیغامات کا یہ تبادلہ دس مئی دوہزار گیارہ کو ہو رہا ہے، یعنی اسامہ بن لادن آپریشن کے کوئی آٹھ دن بعد۔

اب صدر زرداری یا کسی بھی سویلین حکومت کو فارغ کرنے کی طاقت کون رکھتا ہے اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ ہستی صرف افواج پاکستان کی ہی ہے( یا پھر کچھ لوگوں کا خیال ہو سکتا ہے کہ امریکہ بھی ایسا کر سکتاہے)۔ وگرنہ صدر کو گھر بھیجنے کا جمہوری اور آئینی طریقہ پارلیمان میں مؤاخذے کی تحریک پیش کرنا ہے نا کہ عربوں سے اجازت لینا۔

موجودہ پاک امریکہ تعلقات جس میں پاکستان کی منتخب حکومت. پاکستانی فوج (بشمول آئی ایس آئی) اور امریکی انتظامیہ (بشمول سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، پنٹاگن اور سی آئی اے) شامل ہیں ان میں تین ایسی سرکردہ شخصیات ہیں جو ’مسٹر پی‘ ہو سکتے ہیں، موجودہ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا، پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف جنراشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی چیف جنرل احمد شجاع پاشا۔

پنیٹا بھلا زرداری کو کیوں ہٹوانا چاہینگے جبکہ صدر پاکستان سے اگر امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا تووہ نقصان بھی کوئی نہیں دے رہے، اور اگر یہ جنرل کیانی ہوتے تو ’مسٹر کے‘ کہا جاتا ہے یا پھر’مسٹر اے‘، کیونکہ پرویز ان کا مڈل نیم ہے اور مغرب میں یا تو پہلے نام یا پھر خاندانی نام سے پکارا جاتا ہے۔

Memogateاخبار دی نیوز میں شائع ہونیوالے منصور اعجاز اور پاکستانی ڈپلومیٹ کے درمیان مختصر پیغامات کے مبینہ تبادلے کا عکس، سرخ حاشیہ میں ’مسٹر پی‘ کا ذکر پڑھیے

چنانچہ قرین قیاس یہ ہے کہ ’مسٹر پی‘ آئی ایس آئی چیف جنرل پاشا ہوسکتے ہیں جنہوں نے اسامہ بن لادن آپریشن کے فورا بعد صدر زرداری کو فارغ کرنے کے لیے عرب رہنماؤں سے اجازت لی تھی، جو بقول منصور اعجاز انہیں دے بھی دی گئی تھی۔

اب اگر ’مسٹر پی‘ منتخب حکومت کو فارغ کرنے کے لیے غیر ممالک سے صلاح و مشورہ کرتے پھر رہے تھے تو اگرمان بھی لیا جائے کہ حکومت پاکستان نے امریکہ سے کہا کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے سویلین سیٹ اپ کو بچائے تو پھر وہ یہ نہ کرتی تو کیا کرتی؟کیا پاکستان کا مین سٹریم میڈیا ’مسٹر پی‘ اور ان عرب ممالک پر روشنی ڈالے گا جو منتخب حکومت کو فارغ کرنے پر تلے ہوئے تھے؟ اور کیا یہ بغاوت کے ذمرے میں نہیں آتا؟

اسامہ بن لادن امریکیوں کو ابیٹ آباد میں ملا جسے ایک فوجی شہر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس کی وہاں موجودگی کا نہ پتہ ہونے کو اگر کچھ اور نہ بھی کہا جائے تووہ ایک بہت بڑی انٹلیجنس ناکامی تھی اور اس پر اگر کسی نے یہ کہا کہ اس ناکامی کی انکوائری کی جائے گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا تو اس میں کیا خرابی تھی کہ منتخب حکومت کو ہی فارغ کرنے کے منصوبے بننا شروع ہو جاتے۔انیس سو ننانوے میں وزیراعظم نواز شریف نے جب کارگل کی ناکام فوجی مہم جوئی کی تحقیقات کرانے کی ٹھانی تھی تو انہیں خاندان سمیت ملک بدر ہونا پڑا تھا۔

مبصرین کہا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا کی موجودہ روش کو دیکھتے ہوئے یہ امید لگانا عبث ہوگا کہ فوج کے کردار پر بھی کبھی کھل کر بات ہوگی لیکن اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر مسلم لیگ نواز کو اس مرحلے پر موقع پرستی کی بجائے جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے

Source

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: