Kalam-e-Kayani Ba-Zuban-e-Bilawal

by admin


Chairman Bilawal Bhutto asserts his authority
by Raja Riaz

LAHORE: Not many among us know that the decision of revisiting foreign policy vis-a- vis America by the PPP-led coalition government in the Centre is being done on the directions of Chairman Bilawal Bhutto Zardari.

Issuing his maiden order as party chairman he asked Co-Chairman Asif Ali Zardari, the president of the country, and Senior Vice Chairman Yousaf Raza Gilani, holding the office of chief executive of the country, to “revisit the relations with America”.

“Chairman Bilawal was in Naudero on November 26, the day when NATO helicopters attacked the Salala check post, when the media decried the killing of 26 soldiers of the Pakistan Army. He received detailed information from Islamabad and then called upon the co-chairperson and the senior vice chairman of the party to revisit the country’s policy with America. The two gentlemen, Asif Ali Zardari and Syed Yousaf Raza Gillani, were little reluctant to ‘obey’ the ‘order’ and suggested to hold a meeting, but the chairman asserted that the meeting must be called only to review the relationship with USA,” a person moving with Bilawal narrated.

The party administration then contacted its loyal corps and put the chairman’s ‘order’ before them, asking them to make arrangements for its implementation. “It is the first order of Chairman Bilawal to his ‘subordinates’ in the party,” the aide added.

The revisiting of the policy with America and visiting the bereaved family was Chairman Bilawal’s own decision and he asserted his authority, forcing his party men to follow him. (Source: Daily Times, 3 Dec 2011)

کہتے رہو‘ اچھا لگتا ہے

نذیر ناجی

ایک پرانا فلمی گیت ہے‘ جس میں ہیروئن‘ ہیرو سے اظہار محبت کرتی ہے‘ تو جواب میں ہیرو کہتا ہے ”کہتی رہو‘ اچھا لگتا ہے۔“ ان دنوں امریکہ کے بارے میں حکومت اور ہمارے سیاستدان جو کچھ کہہ رہے ہیں‘ انہیں سن کر یہی جی چاہتا ہے کہ میں بھی اسی طرح کا گیت دہراؤں۔ ”کہتے رہو‘ اچھا لگتا ہے۔“ ہمارے ہاں پہلا امریکہ مخالف نعرہ سوشلسٹوں اور ترقی پسندوں نے بلند کیا تھا اور امریکہ کے پٹھو حکمرانوں نے ان پر غداری کے الزامات لگا کر‘ ان کے ساتھ جو سلوک‘ کیااسے یاد کر کے دل خون ہو جاتا ہے۔ کیسے کیسے منحنی‘ پڑھے لکھے‘ شائستہ اور نستعلیق لوگوں کو چوروں اور ڈاکوؤں کی طرح گھسیٹ کر تھانوں میں لے جایا گیا۔ ان کی تذلیل کی گئی۔ ان کی شائستگی ‘ وضع داری اور تہذیبی رکھ رکھاؤ کا مضحکہ اڑایا گیا اور حد یہ کہ حسن ناصر جیسے تعلیم یافتہ اور مہذب انسان کو لاہور میں شاہی قلعے کی تاریک اور سیلن زدہ عقوبت گاہوں میں تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ برسوں تک یہی روایت رہی کہ جس نے بھی امریکہ کے خلاف آواز اٹھائی‘ اسے کچل دیا گیا۔ یہاں تک کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک بھرپور عوامی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے سیاسی منظر پر چھائے‘ تو پہلی مرتبہ پاکستان میں لوگ سوشلزم کا نام بلاخوف و خطر لینے لگے۔ مگر اس وقت بھی امریکہ کے حامی اس قدر طیش میں آئے کہ ایک بزرگ نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”ہم سوشلسٹوں کی زبانیں گدیوں سے کھینچ لیں گے۔“

بھٹو سے پہلے پاکستان کے سارے حکمران ایک دوسرے سے بڑھ کر امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے رہتے تھے اور جو امریکہ کے خلاف آواز اٹھاتا‘ شاہ سے بڑھ کر‘ شاہ کے وفادار امریکہ نواز حکمران‘ اس کے درپے آزار ہو جاتے۔ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام شروع کر کے‘ امریکہ کی مرضی کے خلاف ایک فیصلہ کیا‘ جس پرامریکہ کے سیکرٹری خارجہ نے انہیں دھمکی دی کہ ”اگر تم نے ایٹمی پروگرام ختم نہ کیا تو تمہیں عبرت کی مثال بنا دیا جائے گا۔“ اور امریکیوں کے احکامات کے تحت‘ اردن میں مظلوم اور نہتے فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے والے ایک بریگیڈیئر نے امریکہ کے مخالفین کے خلاف شاندار کارکردگی دکھا کر‘ امریکیوں کا اعتماد حاصل کیا‘ تو اسے پاکستانی فوج میں واپس بھیج کر تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرائے گئے۔ اس بریگیڈیئر کا نام ضیاالحق تھا۔ افسوس کہ بھٹو صاحب نے اسے جونیئرہوتے ہوئے بھی سینئرز پر فوقیت دے کر چیف آف آرمی سٹاف بنایا اور یہ بھول گئے کہ ان کے منظور نظر جنرل نے کونسے کارناموں کے عوض ترقی حاصل کی ہے؟ اور جب بھٹو امریکہ کے معتوب ہوئے‘ تو اردن میں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے والے جنرل نے انہیں پھانسی پر چڑھا دیا اور اقتدار پر قبضہ کر کے اسی جنرل نے اپنے اقتدار کے تحفظ اور چند ڈالروں کے عوض سوویت یونین کے خلاف ”سپاری“ لے کر سوویت افواج کے خلاف امریکی جنگ لڑنے کی ذمہ داری اٹھا لی۔ 1971ء کے بعد وہ ہماری بدنصیبی کا دوسرا بڑا منحوس لمحہ تھا جب ضیاالحق نے امریکیوں کی جنگ کو جہاد کا ٹھپہ لگا کر ہمارے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا اور انہیں جدید اور مسلح افواج سے لڑنے کے لئے تربیت اور اسلحہ مہیا کیا۔ ایک فوجی ہونے کے ناتے وہ اپنا یہ سبق بھی بھول گئے کہ جب کسی آبادی کو مسلح افواج کے ساتھ لڑنے کی تربیت دے دی جائے‘ تو پھر فوج کا دبدبہ ختم ہو جاتا ہے اور ریاسٹ کی رٹ کمزور پڑ جاتی ہے۔ ضیاالحق نے فوجی اکیڈمیوں میں ملنے والے اس بنیادی سبق کو بھی فراموش کر دیا اور اپنے ہی ملک کے شہریوں کو فوجی تربیت دے کر امریکہ کی جنگ میں جھونک تو دیا مگر آج اس جرم کا خمیازہ پاک فوج بھگت رہی ہے‘ جسے اپنے ہی ملک کے اندر تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ساتھ جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔

9/11
کے بعد امریکیوں نے بھارت کا ہوا کھڑا کر کے ہمیں اس طرح گھیرے میں لیا کہ اگر ہم اس کے اتحادی بننے سے انکار کرتے تو افغان جنگ میں امریکہ اور بھارت اتحادی بن جاتے اور بھارت ایک جنگی اتحادی کی صورت میں امریکہ سے جو معاوضہ مانگتا‘ وہ یقینی طور پر پاکستان کی قیمت پر حاصل کیا گیا کوئی نہ کوئی مفاد ہوتا۔ جو یقینی طور پر کشمیر میں بھارتی مقاصد کے حصول کی صورت میں ہوتا۔ پرویزمشرف نے اس صورتحال سے گھبرا کر امریکی اتحادی بننے کا فیصلہ کر لیااور ٹرمز آف انگیجمنٹ طے کئے بغیر طالبان حکومت کے خلاف امریکی جنگ میں شریک ہو گئے۔ جنرل مشرف نے اپنی طرف سے یہ چالاکی لگائی کہ طالبان کے خلاف جنگ میں اتحادی بھی بن گئے اور درپردہ ان کی حمایت بھی کرتے رہے۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ ان سے دو غلطیاں ہو گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایک طاقتور فریق کے ساتھ ٹرمز آف انگیجمنٹ طے کئے بغیر‘ جب باہمی تعاون شروع کر دیا جائے تو پھر طاقتور فریق اپنی شرائط نہ صرف منواتا بلکہ مسلط کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ طاقتور فریق کے ساتھ چالاکی اور داؤ بازی نہیں چل سکتی۔ بعد میں یہ دونوں باتیں ہماری مشکلات کا باعث بن گئیں۔

افغان جنگ میں ہم اپنے کردار کو جہاں تک رکھنا چاہتے تھے‘ اسے امریکہ نے نہیں مانا اور ہمیں مجبور کیا کہ ہم طالبان کے خلاف جنگ میں وہی کچھ کریں‘ جو امریکہ چاہتا ہے اور دوسرے یہ چالاکی بھی ہمیں مہنگی پڑ گئی کہ ایک ہی وقت میں ہم طالبان خلاف مصروف جنگ بھی تھے اور طالبان کی مدد بھی کر رہے تھے۔جنرل مشرف کو بارہا ان کی دوہری پالیسی کے بارے میں مختلف طریقوں سے جتایا گیا اور جب وہ نہیں مانے‘ تو پھر میڈیا اور سول سوسائٹی کے ذریعے جنرل مشرف کو اس حالت میں پہنچا دیا کہ وہ پہلے اقتدار اور پھر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اس تبدیلی کا واضح مقصد یہ تھا کہ پرویزمشرف کی جگہ اقتدار ایسے لوگوں کے حوالے کیا جائے‘ جو ان کے ساتھ پرویز مشرف کی طرح چالاکی نہ کریں۔ لیکن جو نظام قائم کیا گیا‘ وہ کسی بنیادی تبدیلی کے نتیجے میں نہیں آیا تھا۔فوجی قیادت کے مقاصد وہی رہے جبکہ حکومت میں آنے والی سیاسی قیادت دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے اور امریکی غلبے سے نکلنے کے لئے علاقائی تعاون بڑھانے کے حق میں تھی۔ لیکن ایسا بھارت کے ساتھ کشیدگی ختم کئے بغیر ممکن نہیں تھا۔ جبکہ فوجی قیادت ہر قیمت پر بھارت کے ساتھ کشیدگی برقرار رکھنے کی پالیسی کی حامی تھی۔ اس دوران جنرل پرویزمشرف کے زمانے میں فوج کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا تھا‘ اسے بحال کیا جا چکا تھا اور اس نے منتخب حکومت پر اپنا دباؤ بڑھا دیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ محاذآرائی کی صورتحال بحال کرے۔ جبکہ سیاسی قیادت علاقائی تعاون کے ذریعے امریکہ کی محتاجی ختم کرنے کے مواقع تلاش کر رہی تھی۔

یہ کشمکش آج بھی جاری ہے۔ مگر اس دوران امریکہ نے پہلے اسامہ بن لادن کو پاکستان سے برآمد کر لیا اور پھر مہمندکے علاقے میں ہماری دو چوکیوں پر فائر کھول کے پاکستان کے 24افسروں اور جوانوں کو شہید کر دیا۔ اس پر پاکستان کے اندر اشتعال پیدا ہونا لازم تھا۔ عوام کو یوں مشتعل ہوتے ہوئے دیکھ کر‘ فوجی قیادت بھی ڈٹ گئی اور اس طرح پہلی بار عوام‘ حکومت اور فوج تینوں‘ امریکہ کے خلاف کھڑے ہو گئے اور جب میں پاکستان کی تمام حکمران طاقتوں کو بیک وقت امریکہ کے سامنے قومی خودمختاری و آزادی کے نعرے لگاتے سنتا ہوں‘ تو ”کہتے رہو‘ کہتے رہو‘ اچھا لگتا ہے۔“ گانے لگتا ہوں۔ دل چاہتا ہے مزید جب تک ہو سکے یہ نعرے سنتا رہوں۔ آگے تو مجھے پتہ ہے‘ جو ہونا ہے۔ مگر چار دنوں کی اس خوشی سے لطف اندوز ہونے میں کیا ہرج ہے؟ کہتے رہو‘ کہتے رہو‘ اچھا لگتا ہے۔

(Source: Jang, 4 Dec 2011)

One Comment to “Kalam-e-Kayani Ba-Zuban-e-Bilawal”

  1. More than any one else, it is PPP’s own ministers e.g. Rehman Malik, CM Raisani, Babar Awan, Sharmila Farooqi etc, who have shamelessly served as convenient mouthpieces of Pakistan army and the ISI, frequently praising ISI and army’s services to the nation while completely disregarding the thousands of the Balochs, Pashtuns and Shia Muslims who have been mercilessly butchered by Pakistan army and its proxy organizations (TTP-SSP-LeJ etc)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: