Saleem Safi defends sectarian terrorists of Sipah-e-Sahaba

by admin

سلیم صافی پاکستان کے ان صحافیوں میں سے ہیں جن کے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طالب علمی کے زمانے سے گہرے تعلقات رہے ہیں – زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمیعت طلبا میں شامل ر ہے سی آئ اے، آئ ایس آئ اور سعودی عرب کے ایجاد کردہ نام نہاد جہاد افغانستان میں شامل ہو کر افغانستان جا پنہچے اور بے گناہ افغانوں کے خون میں اپنے ہاتھ تر کیے –

امریکہ پر القائدہ کے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی سے تو اپنا ناطہ توڑ لیا لیکن فوجی اسٹبلشمنٹ ، خاص طور پر آئ ایس آئی سے اپنے روابط کو مستحکم رکھا –

یہی وجہ ہے کہ آج اگر کسی نے پاکستان کی فوج کی خفیہ پالیسیوں کا اندازہ کرنا ہو تو اس کے لیے سلیم صافی اور ان کی طرح کے دوسرے آئ ایس آئی یافتہ صحافیوں کا مطالعہ کافی ہے – اس طرح کےدیگر صحافیوں میں رحیم الله یوسف زئی، ہارون رشید، جاوید چودھری، مبشر لقمان، انصار عباسی، مجیب الرحمان شامی وغیرہ شامل ہیں انگریزی میڈیا میں اس طرح کے آئ ایس یافتگان میں اعجاز حیدر ، نجم سیٹھی ، موید پیرزادہ، طلعت حسین، نسیم زہرہ ، مشرف زیدی اور سایرل المیدہ کے نام آتے ہیں –

آجکل دفاع پاکستان کانفرنسوں کا شور غوغا ہے سب اہل نظر جانتے ہیں کہ دفاع پاکستان کا کاروبار آئی ایس آئ کا شروع کردہ ہے جس میں آئ ایس آئ کی حمایت یافتہ جہادی فرقہ وارانہ جماعتیں سپاہ صحابہ ، جماعت الدعوه ، پاکستان تحریک انصاف ، عجاز الحق ، جنرل حمید گل، سمیع الحق وغیرہ شریک ہیں –

آئ ایس آئ کے ہمدرد صحافی آج کل دفاع پاکستان کونسل کی شان میں قصیدے لکھ رہے ہیں اور ان قصیدوں کی آڑ میں در اصل مذہبی فرقہ واریت پھیلانے والی دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کے عوام کے لئے قبل قبل بنانا چاہتے ہیں – جنگ اخبار میں گیارہ فروری کو شایع ہونے والا سلیم صافی کا مضمون بھی اسی مقصد کے لئے لکھ گیا ہے جس میں صافی صاحب نے پاکستان کے سب سے متشدد گروپ سپاہ صحابہ کی صفائی پیش کی ہے – چند اقتباسات حاضر خدمات ہیں –

یوں ہر پاکستانی کا حق ہے کہ وہ اس کے وجود اورکردار سے متعلق سوال اٹھائے لیکن جس بنیاد پر اس کے خلاف رحمن ملک اور میڈیا کے بعض حلقوں نے شور اٹھا رکھا ہے‘ وہ نہایت لغو اور فضول ہے ۔ ان کو اعتراض ہے کہ بعض کالعدم تنظیمیں دوسرے ناموں سے دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم سے متحرک ہوگئی ہیں‘ اس لئے اس کونسل کا راستہ روک دینا چاہئے حالانکہ میرے نزدیک اس کونسل کی واحد خوبی یہ ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کو مین اسٹریم میں لا اور ان تنظیموں کے رہنماؤں کو شیخ رشید احمد اور اعجاز الحق جیسے پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ رہنے والے سیاستدانوں کے ساتھ بٹھا رہی ہے ۔
جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے‘ ان میں تین قسم کی تنظیمیں شامل ہیں۔ جہادی تنظیمیں فرقہ وارانہ تنظیمیں اور علیحدگی پسند قوم پرست تنظیمیں۔ اب کوئی جہادی تنظیم ایسی نہیں ہے جس نے بحیثیت تنظیم پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہو۔ تقریباً تمام تنظیموں کے رہنما گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں رہے، ان میں سے بعض جیلوں میں بھی رہے اور عدالتوں کا بھی سامنا کیا لیکن کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ لال مسجد کا واقعہ ہو یا جی ایچ کیو پر حملے کا‘ ہر موقع پر ان تنظیموں کے رہنماؤں نے حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔ اگر جیش محمد ‘ حرکة الانصار یا کسی اور جہادی تنظیم کے بعض وابستگان القاعدہ کے ساتھ منسلک ہوکر ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کے مرتکب ہوئے ہیں تو اس طرح تو جماعت اسلامی اور جے یو آئی جیسی تنظیموں سے بھی بعض لوگ ٹوٹ کر وزیرستان منتقل ہوگئے ہیں یا پھر پیپلزپارٹی‘ ایم کیوایم اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے بعض وابستگان بھی سنگین جرائم کے مرتکب قرار پائے ہیں۔ اگر یہاں چند افراد کی غلطی کی سزا پوری تنظیم کو نہیں دی جارہی ہے تو پھر جہادی تنظیموں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟ جہاں تک فرقہ وارانہ تنظیموں کا تعلق ہے تو یہاں پر بھی سپاہ صحابہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ جس طرح سپاہ صحابہ کے وابستگان نے نئے نام سے کام کا آغاز کردیا ہے‘ اسی طرح تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بھی نئے نام سے متحرک ہے جو متحدہ مجلس عمل اور اس کے ذریعے پارلیمنٹ اور حکومت کا بھی حصہ رہی ۔ اب اگر وہ قابل اعتراض نہیں تو پھر سپاہ صحابہ کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟ اگر ایسا ہوتا کہ ملک میں مسلک اور فرقے کی بنیاد پر تنظیم سازی کی اجازت ہی نہ ہوتی تو پھر سپاہ صحابہ کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے تھی لیکن اگر اس وقت بھی ملک میں فرقے اور مسلک کی بنیاد پر ہزاروں تنظیمیں سرگرم عمل ہیں تو پھر صرف ایک تنظیم نشانہ کیوں؟ رہ گئی بات بی ایل اے جیسی تنظیموں کی‘ تو تماشہ یہ ہے کہ جو لبرل عناصر جہادی اور دینی تنظیموں کی سرگرمیوں پر معترض ہیں‘ وہ بھی یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ بلوچ تنظیموں کو مذاکرات کے ذریعے راضی کرلیا جائے۔ میں خود بھی ان لوگوں کا ہمنوا ہوں اور اپنا بھی یہ مطالبہ ہے کہ طاقت کے استعمال کی بجائے سیاست اور مذاکرات کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو راضی کرکے مین اسٹریم کا حصہ بنا لیا جائے لیکن اپنا مطالبہ یوں مختلف ہوجاتا ہے کہ میں اس فراخدالی کا مظاہرہ جہادی اور دینی تنظیموں تک دراز کرنا چاہتا ہوں لیکن بعض لوگ ایک طبقے سے متعلق فراخدلی اور دوسرے سے متعلق تنگ نظری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
اگر جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی کا مثبت نتیجہ نکلا ہوتا تو میں بھی اس کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہوتا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس نام نہاد پابندی سے انتہاپسندی اور دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے اور کسی طرح کی بہتری سامنے نہیں آئی۔ وجہ صاف ظاہر ہے، جب آپ کسی کو آزادانہ طور پر سیاسی طریقے سے رائے کے اظہار اور اپنے نظریات کے پرچار کا موقع نہیں دیں گے تو پھر وہ دوسرے راستوں کی طرف جائے گا۔ اگر ان تنظیموں کے قائدین کو آزادانہ طور پر سیاست کرنے دی جائے گی تو وہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کی طرف جانے والے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ منسلک رکھ کر مین اسٹریم میں لائیں گے لیکن جب ان کے پاس پُرامن سرگرمیوں کے لئے پلیٹ فارم نہیں ہوگا تو ان کے باقی ماندہ کارکن بھی تشدد کی طرف جائیں گے۔ ایک زمانہ تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان کے بعض قوم پرست کابل میں بیٹھ کر پاکستان بم بھجوایا کرتے تھے لیکن جب ان لوگوں کو مین اسٹریم میں آنے کا موقع دیا گیا تو آج وہ پُرامن جماعتیں تصور کی جاتی ہیں۔ اگر جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے بعض لوگ تشدد میں ملوث پائے گئے ہیں تو یہی کام کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کے زیرسایہ الذولفقار تنظیم نے بھی کیا اور یہی پارٹی آج حکومت کررہی ہے۔ ایم کیوایم پر بھی تشدد کا الزام ہے لیکن جوں جوں ایم کیوایم مین اسٹریم میں آرہی ہے توں توں اس کے تشدد کا پہلو مدہم ہوتا جارہا ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ یہ آزمودہ نسخہ جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں سے متعلق کیوں نہیں آزمایا جاتا اور انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟جیش محمد‘ حرکة الانصار اور البدر مجاہدین جیسی جہادی تنظیموں کا معاملہ تو یوں بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کہ ان کے وابستگان کو ہمارے ریاستی اداروں نے بالاتفاق اس کام پر لگایا۔ انہیں مراعات بھی ملتی رہیں اور شاباش بھی دی جاتی رہی۔ آج بھی کہیں نہ کہیں ان لوگوں سے بوقت ضرورت ملک کے وسیع تر مفاد میں کام لیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف پابندیاں لگا کر ان لوگوں کو خواہ مخواہ تشدد پر ابھارا جاتا ہے۔ یہ ملک سب کا ہے، بہتر یہی ہوگا کہ سب شہریوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے ۔ تمام کالعدم جہادی اور دینی جماعتوں پر پابندی ختم کردی جائے، سب کو عام معافی دی جائے۔ سب پر یکساں طور پر لاگو قاعدہ اور ضابطہ بنا دیا جائے پھر جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے ‘ اسے سزا دی جائے اور جو لوگ قانون کا احترام کریں وہ کسی بھی جماعت یا پس منظر کے حامل ہوں‘ ان کو اپنی مرضی کے مطابق سیاسی اور دعوتی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ افغانستان کا نقشہ بدلنے کو ہے، امریکہ وہاں سے نکل رہا ہے اور دو تین سال بعد خطے کی حرکیات یکسر بدل گئی ہوں گی ۔ اس نئی بساط کے بچھنے سے قبل ضروری ہے کہ ہم بھی داخلی محاذ کی طرف توجہ دیں اور پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ ریاست سے باغی عناصر کو عام معافی اور ان کی تنظیموں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ سخت قوانین بناکر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور اس کے بعد کوئی خلاف قانون کام کرے تو اسے سخت سزا دی جائے ۔ اگر قومی دولت لوٹنے والوں اور ہزاروں انسانوں کو قتل کرنے والوں کو ”این آراو“ کے تحت نہ صرف معافی مل سکتی ہے بلکہ وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بھی بن سکتے ہیں تو پھر جہادی اور دینی تنظیموں کے بارے میں ایک اور این آر او کیوں جاری نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ اول الذکر لوگوں نے جو کچھ بھی کیا بدنیتی کی بنیاد پر کیا جبکہ موخرالذکر لوگوں کا کام جتنا نقصان دہ ہے ‘ شایداتنا ہی ان کی نیت نیک ہو۔

اپنے اس کالم میں صافی صاحب ارشاد فرماتے ہیں:

سپاہ صحابہ اور دیگر جہادی فرقہ وارانہ جماعتوں کا کام جتنا نقصان دہ ہے اتنی ان کی نیت نیک ہے – اس اعتبار سے جتنے جس لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ کے دہشت گرد نے بریلوی، شیعہ ، احمدی یا مسیحی قتل کیے ہیں اتنا ہی اس کو نیک نیتی کا ثواب مل رہا ہو گا – کیا کہنے ہیں دہشت گردی کی حمایت اور اس کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا اسے ہی کہتے ہیں –

سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کے اپنے جائز حقوق کے لیے لڑنے والے بلوچ نوجوانوں سے کیا موازنہ – بلوچ حریت پسند پاکستان کی فوج سے لڑ رہے ہیں جبکہ سپاہ صحابہ کے دہشت گرد پاکستان کے طول و عرض میں بے گناہ شیعہ مسلمانوں کا قتل ام کر رہے ہیں –

سلیم صافی صاحب نے اس بات کو مکمل طور پر بھلا دیا کہ سپاہ صحابہ کا نشانہ کوئی خاص تنظیم تحریک جعفریہ وغیرہ نہیں بلکہ تمام شیعہ مسلمان ان کے نشانے پر ہیں ان کا شیعہ کافر کا نعرہ پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والے ہر شیعہ کے خلاف نفرت کا اعلان ہے جس پر عملدرآمد سپاہ صحابہ کے دہشت گرد بے گناہ شیعوں کو قتل کر کے انجام دیتے ہیں –

سلیم صافی صاحب نے بد دیانتی سے کام لیتے ہوۓ سپاہ صحابہ کا موازنہ شیعہ مسلمانوں سے کیا ہے – پاکستان کے سنی مسلمانوں کی اکثریت بشمول بریلوی، دیوبندی اور وہابی مسلمان سپاہ صحابہ کی پر تشدد اور نفرت انگیز کار وائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں – سپاہ صحابہ کسی مذہب یا فرقے کی نمایندہ نہیں ہے – بریلویوں کی تمام جماعتیں سپاہ صحابہ کو دہشت گرد سمجھتی ہیں – دیوبندیوں کی سب سے بڑی جماعت جمیعت علما اسلام فضل الرحمان گروپ نے سپاہ صحابہ کو ہمیشہ رد کیا ہے – اہلحدیث ان کو اپنے سات منسلک کرنا گوارا نہیں کرتے – سپاہ صحابہ دہشت گردوں کا کسی مسلک یا مذھب سے کوئی تعلق نہیں –

سپاہ صحابہ اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان تشدد کا موازنہ بد دیانتی پر مبنی ہے – یہ ایسا ہی ہے جسے ہم اسرایل کے جنگی جرائم کا موازنہ فلسطینیوں کو تشدد سے کرنا شروع کر دیں یا کشمیر میں حریت پسندوں کے تشدد کا موازنہ بھارت کی جارحیت سے کریں – تشدد ہر طرح کا قبل مذمت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کے پچھلے تیس سال سے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے جس کی ذمہ دار صرف اور صرف سپاہ صحابہ اور اس کے پیچھے موجود پاکستان کے فوجی خفیہ ادارے ہیں –

آپ نے شیعہ مسلمانوں کو سپاہ صحابہ کے ساتھ کھڑا کرنے کی کوشش کر کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اسی روایتی پالیسی کی ترجمانی کی، جس میں وہ نام نہاد توازن اور برابری کا فارمولا قائم کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو اسلام پرستوں کے ساتھ، دہشتگردوں کو امن پسندوں کے ساتھ، پاکستان دشمنوں کو محب وطن تنظیموں کے ساتھ اور قاتل گروہوں کو مقتول فریق کے ساتھ کھڑا کرتے ہیں

کیا آپ نہیں جانتے کہ شیعہ مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی تنظیم سے ہو یا نہ ہو، ہمیشہ ر دہشتگردی کا شکار ہیں۔ کیا کسی شیعہ تنظیم نے دیوبندی کافر کا نعرہ بلند کیا؟ کیا پاکستان کے شیعہ پاکستان کے شہریوں یا فوج کے خلاف کسی بھی طرح کی دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں؟ شیعہ لیڈرز نے کبھی دہشتگردی کرنے، دہشتگردی سوچنے اور دہشتگردی کا پرچار کرنے کی تعلیم نہیں دی۔ انہوں نے خودکش حملوں جیسی اذیت ناک دہشتگردی کے باوجود اپنے لوگوں کو صبر کی تلقین کی ہے اسی وجہ سے ان کے مسلک میں موجود انتہاپسند معتدل شیعہ قیادت کے مخالف ہیں۔

لیکن دوسری طرف سپاہ صحابہ کی بنیاد ہی دہشتگردی پر رکھی گئی ہے، آج بھی لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق اور سپاہ صحابہ کا سربراہ محمد احمد لدھیانوی مل کر جلسے کرتے ہیں اور شیعوں کو قتل کرنے کا واضح اعلان کرتے ہیں۔ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے قاتل کے ہونے میں اس لئے شائبہ نہیں کہ آپ کے سامنے انہوں نے نہ صرف شیعہ مکتب فکر بلکہ اہل سنت بریلوی، دیوبندی اور اسلام سے باہر قادیانی، عیسائی و دیگر مذاہب کے پیروکاروں اور پاکستان کے مہمانوں کا قتل عام کیا ہے۔ اگر شک ہے تو خود مولانا مفتی حسن جان پشاور کا قتل، مولانا فضل الرحمن پر قاتلانہ حملے، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے متعدد افراد کے بہیمانہ قتل کے واقعات کا مطالعہ فرما لیں۔

ف سپاہ صحابہ کسی مسلک یا مکتب کی نمائندگی نہیں کرتی۔ مسلک دیوبند کی نمائندہ جماعتیں جے یو آئی (ف) یا پھر جماعت اسلامی ہے۔ ان جماعتوں کو صرف مسلک دیوبند کے پیروکار نہیں بلکہ تمام مسالک اور مکاتب کے پیروکار تسلیم بھی کرتے ہیں اور ان کا احترام بھی کرتے ہیں۔ لیکن سپاہ صحابہ کو دوسرے مسالک تو درکنار خود دیوبندی حضرات بھی اپنا نمائندہ یا ترجمان تصور نہیں کرتے، بلکہ انہیں انتہا پسند اور دہشت گرد کہتے ہیں۔

اس حقیقت کے موجودگی میں آپ کی طرف سے شیعہ مسلمانوں اور سپاہ صحابہ کو ایک ہی پلڑے میں تولنا کس قدر زیادتی ہے؟

سپاہ صحابہ نے اپنا منشور نہیں بدلا، اپنا جھنڈا نہیں بدلا، اپنے غلیظ نعرے نہیں بدلے، اپنا طرز عمل نہیں بدلا، حتٰی کہ اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں سے بھی توبہ نہیں کی، بلکہ حال ہی میں لشکر جھنگوی کے سربراہ کی رہائی کے بعد ہونے والے جلسوں میں دہشتگردی کو ازسرنو شروع اور منظم کرنے کے اعلانات کئے ہیں۔ اس واضح فرق کے بعد بھی آپ سپاہ صحابہ اورشیعہ مسلمانوں کو ایک صف میں شمار کریں تو اللہ ہی حافظ ہے؟

دوسری طرف سپاہ صحابہ کی بنیاد ہی کفر کے فتوے کے اوپر رکھی گئی۔ آپ کی سماعتوں میں وہ نعرہ ابھی تک نہیں گونج رہا کہ ’’کافر کافر شیعہ کافر۔ جو نہ مانے وہ بھی کافر‘‘ یعنی پورا عالم اسلام جو شیعوں کو کافر نہیں مانتا وہ بھی کافر ہے؟؟ کفر اور اسلام کے واضح فرق کے باوجود بھی آپ شیعہ مسلمانون اور سپاہ صحابہ یعنی قتل اور مقتول کو مساوی قرار دیں تو اس سے بڑی ناانصافی کیا ہو گی؟

6 Responses to “Saleem Safi defends sectarian terrorists of Sipah-e-Sahaba”

  1. Waah Salim Safi Waah!!! – by Danial Lakhnavi

    جب میں نے سلیم صافی کے بارے میں اپنا پہلا آرٹیکل لکھا تو کچھ دوستوں کو عجیب بھی لگا کہ ایک صحافتی نابالغ کو اتنی اہمیت دینا ایں چہ معنی دارد؟ لیکن سلیم صافی حالیہ کالمز میں کیمبرج اور آکسفورڈ کے طلباء سے خطاب کا تذکرہ ان کے لئے بھی اچنبھے کا باعث تھا

    میں نے کہا بھائی صاحب بانو قدسیہ کا راجہ گدھ ناول پڑھو، ان انگریزوں کا تعلق بھی مجھے فرقہ ملامتیہ سے لگتا ہے جن کو اپنی انا کے غباروں سے ہوا نکالنے کے لئے سلیم صافی جیسی رودالیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو تنک مزاج بڑھیا کی طرح ان کو کوسنے دے سکے اور رہی بات بقول سلیم صافی صاحب کی عظیم درسگاہوں میں خطابات اور بالخصوص پاکستان طلباء کی تو بھائی وہ ریڈیکلائزیشن میں یہاں سے کچھ کم تو نہیں آخر کار حزب التحریر کے جری مجاہدوں کو کی نرسری تو وہی ہے۔

    سلیم صافی کو اس بات پر حیرت تھی کہ ان سے کسی نے پاکستانی سیاستدانوں کے بارے میں کیوں نہ پوچھا تو بھائی صاحب یہ آپ کی تربیت گاہ فکری و عملی اسلامی جمعیت طلبہ کے جھنڈے تلے چلنے والی پنجاب یونیورسٹی یا عمران خان کے پرستاروں سے بھری کوئی لمز یونیورسٹی تو ہے نہیں، یہاں تو پاکستان کا تعارف آپ کی جوانی کے ہیرو اسامہ بن لادن اور آپ کے جہادی قائدین کے حوالے سے ہے نہ کہ باہر کی دنیا میں غیرمعروف سیاستدانوں کے حوالے سے۔

    اور اگر انہوں نے نہ کیا تو آپ نے تو کالم کا عنوان زرداری کے نام سے سجا کے وہ کمی پوری ہی کردی۔ لیکن بھائی صاحب زرداری صاحب کی مدح و توصیف میں اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے اعتراف میں آپ جوش خطابت میں کچھ زیادہ ہی بہ گئے۔ اس لئے بھائی صاحب ہوش میں آئیے کہ بقول غالب

    کہ گیا عالم جنوں میں کیا کیا کچھ

    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

    لیکن صاحبہ آپ کے ہوش کیمبرج میں ضرور بحال رہے اور آپ اپنی پیش رو اور سرپرست خفیہ ایجنسیوں کی صفائی میں نہیں چوکے الحمدللہ کہ آپ کا اعتماد تا حال اپنی عظیم ایجنسیوں پر برقرار ہے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ جب ان سوالوں پر آپ سٹپٹائے تو پاکستانی صحافتی مزاج کے مطابق اپنے فیورٹ پنچنگ بیگ صدر زرداری کو نہ بھولے،

    واہ واہ کیا کمال کا مضمون باندھا ہے یہ آپ نہیں آپ کے اندر کا جماعتیا بول رہا ہے یہ کیا کہ تنقید سے جھنجھلائے اور اپنے دماغ میں ہی عدالت لگالی، ملزم کٹہرے میں پیش کئے اور خود افتخار چوہدری بن کر فیصلہ سنا دیا، کیانی بری، پاشا بری، نوازشریف بری، ق لیگ بری، فضل الرحمٰن بری، ایم کیو ایم بری غرض یہ کہ سب بری مجرم کا قرعہ فال نکلا ہے تو زرداری کے نام، واہ واہ مان گئے سلیم صافی صاحب، آخر ہے نا ہونہار بردا کہ چکنے چکنے پات۔

    جماعتی مزاج کے مطابق آپ جماعت اسلامی کی مرتّبہ اور سینہ بہ سینہ تاریخ نگاری کی جس روایت کے امین ہیں اس کے تحت آپ ایسے ہی کالم لکھ سکتے ہیں، کہ جیسے جماعت سے باہر کی زندگی مودودی فکر کی اصطلاح میں جاہلیت سے تعبیر کی جاتی ہے ویسے ہی اس فکر کی چھتری سے باہر کی تاریخ اور تفصیل کہاں قابل توجّہ ٹھر سکتی ہے

    http://criticalppp.com/archives/52437

  2. Very disappointed by Safi.

  3. shame on you Saleem Safi

  4. SHAME Saleem Safi New ADOCATE of Sipahe Yazeed….The BLOOD of Innocent GB people at CHILAS by Sipahe Yazeed is on ur hand Saleem Safi

  5. VIDEO PROOF>>>>>>>>>>> SHIA KILLINGS & INVOLVEMENT OF SALEEM SAFI……

    ـیـا تـم بـھـول گـئـے؟میڈیا کی خوموشی کو
    اگر چینی مہنگی ہوجائے تو بریکینگ نیوز مگر اگر کہی کوئی شیعہ شہید ہوجائے تو بلکل خاموشی ___ واہ آزاد میڈیا ، واہ

Trackbacks

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: