Hamid Mir’s warning to Haroon-ur-Rasheed

by admin


جو میرے نزدیک سچ ہے اس کے کہیں بھی اظہار میں کبھی کوئی قباحت نہیں سمجھتا۔ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بے بنیاد الزامات کی میں نے ہمیشہ مذمت کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ قومی مفاد کے نام پر آئی ایس آئی کی نا اہلی اور قانون شکنی پر خاموشی اختیار کی جائے۔

باتیں کرتے کرتے ہم برطانوی پارلیمنٹ کے کانفرنس ہال نمبر چار میں پہنچ گئے جہاں لارڈ نذیر احمد صاحب نے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا اور مجھے پاکستان کے بارے میں کچھ کہنا تھا۔ عبدالرزاق ساجد کی نظامت میں بیرسٹر امجد ملک، مشتاق لاشاری، بیرسٹر قیوم بٹ، ارشد رچیال، طاہر چودھری، وجاہت علی خان اور بہت سے دوستوں نے فوج اور خفیہ اداروں کے بلوچستان میں کردار پر سوالات اٹھائے۔ میں نے سوالات کرنے والوں کو یقین دلایا کہ پاکستان کا میڈیا اور سول سوسائٹی بلوچستان میں ہونے والے ظلم و ستم پر خاموش نہیں رہے گا اور قومی مفاد کے نام پر خفیہ اداروں کی قانون شکنی پر گرفت کا سلسلہ بھی بند نہیں کرے گا اور انشاء اللہ 1971ء کا سانحہ دوبارہ نہیں ہو گا۔ اس دوران ایک سفید ریش شخص نے زبردستی کھڑے ہو کر کہا کہ شیخ مجیب الرحمن غدار تھا اس نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان توڑ دیا لیکن ہم مشرقی پاکستان کو دوبارہ مغربی پاکستان میں شامل کریں گے۔ یہ سن کر لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش بن چکا ہے اور ہم بنگلہ دیش کی آزادی و خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔ سفید ریش شخص نے چلاتے ہوئے لارڈ نذیر احمد سے کہا کہ تم برطانوی حکومت کے ایجنٹ ہو تم غدار ہو۔ لارڈ صاحب مسکرائے اور کہا کہ میں برطانوی شہری ہوں، برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کا رکن ہوں برطانیہ کے مفادات کا تحفظ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں اگر آپ کو برطانیہ پسند نہیں تو یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ اس کے بعد سفید ریش شخص کو کانفرنس ہال سے نکال دیا گیا۔

اس طرح کے کئی اشخاص پاکستان میں بھی پائے جاتے ہیں جو اپنی داڑھی کی آڑ میں مخالف نقطہ نظر رکھنے والوں کو بھارت اور اسرائیل کا ایجنٹ قرار دینے میں مصروف رہتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے لندن جانے کا بنیادی مقصد ہائر ایجوکیشن کے بارے میں برٹش کونسل کے زیر اہتمام بوئنگ گلوبل 2012 کانفرنس میں شرکت تھی۔ اس کانفرنس میں 92 ممالک کے ماہرین تعلیم اور صحافی شریک تھے۔ یہاں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن بنگلہ دیش کے چیئرمین ڈاکٹر ابوالکلام چوہدری نے بتایا کہ ان کے خاندان نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا لیکن مارچ 1971ء کے فوجی آپریشن میں جو ظلم ہوا اس ظلم نے انہیں پاکستان کے خلاف نعرے لگانے پر مجبور کر دیا۔ ڈاکٹر چوہدری نے بھی مجھے بلوچستان کے متعلق کئی سوالات کئے اور درد بھرے لہجے میں کہا کہ خدارا 1971ء کی غلطیوں سے سبق سیکھو۔ میں نے انہیں بھی یقین دلایا کہ فکر نہ کریں ہم پرانی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔

مجھ ناچیز کو پورا یقین ہے کہ اب پاکستان کے عوام کو دھوکہ دینا بہت مشکل ہے۔

گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ٹی وی ٹاک شوز میں خفیہ اداروں کے کردار پر اٹھائے جانے والے سوالات پر اظہار ناپسندیدگی کیا اور کہا کہ بھارت اور اسرائیل میں خفیہ اداروں پر ایسی تنقید نہیں ہوتی۔ جنرل صاحب نے کہا کہ اس تنقید سے سرحدوں کا دفاع کرنے والے جوانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

آرمی چیف کے اس بیان کے بعد خفیہ اداروں کے سربراہان کی مدح میں کتابیں تحریر کرنے والے ایک صاحب دھونس اور دھمکی پر اتر آئے۔ اوقات ان کی صرف اتنی ہے کہ لاہور کے تین سینئر کالم نویسوں کو ساتھ لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دربار میں پہنچتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ وہ کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداری بھی کرتے ہیں اور راوی کے پار ایک ہاؤسنگ سکیم بنا رہے ہیں۔ موصوف نے کمال ڈھٹائی سے تقاضا کیا ان کی سکیم میں سرکاری خزانے سے ترقیاتی کام کئے جائیں تاکہ زمین کی قیمت میں اضافہ ہو جائے۔ میرٹ کا ڈھنڈورا پیٹنے والے وزیر اعلیٰ صاحب نے فوری طور پر سنیٹر پرویز رشید کو حکم دیا کہ سرکاری خزانے سے ٹھیکیدار صاحب کا کام کر دیا جائے۔ کام شروع ہو گیا تو تقاضے بڑھ گئے۔ سنیٹر صاحب نے مجبوریوں کا اظہار کیا تو ٹھیکیدار نے اپنے قلم کو ڈنڈا بنا لیا اور اپنی ناتمام خواہشوں کی تکمیل نہ ہونے پر پنجاب حکومت کے خلاف چارج شیٹ بنا ڈالی۔ غلط کاموں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے کالم نویس اور ٹھیکیدار میں فرق نہیں سمجھا لہٰذا اب بھگتیں لیکن جناب ہمارا اوڑھنا بچھونا صرف صحافت ہے۔ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا اور جو جنرل احمد شجاع پاشا یا جنرل کیانی کی خوشنودی کے لئے ہمیں بھارت و اسرائیل کا ایجنٹ کہے گا ہم اسے بتائیں گے کہ وہ راولپنڈی کے کس علاقے کے کس گھر میں کس کس کے ساتھ آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں کو کس کس حالت میں ملتا رہا؟ منافقوں سے پہلے کبھی ڈرے تھے نہ آئندہ کبھی ڈریں گے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اگلے دن لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت میں آئی ایس آئی کے وکیل کو بالکل ٹھیک کہا کہ ہم فوج کا احترام کرتے ہیں لیکن قانون شکنی کی اجازت نہیں دے سکتے بتایا جائے کہ خفیہ اداروں کی تحویل میں تین نوجوان کیسے مارے گئے؟ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آواز اٹھانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ جرنیل صاحبان سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی قربانیوں کی آڑ لینے کی کوشش نہ کریں۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ ٹھیک ہے 1990ء میں یونس حبیب نے جو کیا اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں لیکن 2012ء میں خفیہ اداروں کی تحویل میں لوگ کیسے مارے جا رہے ہیں؟ سپریم کورٹ آپ کے وکیلوں کے دعوؤں کو سچ تسلیم کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں؟ کیا آپ اور آپ کے خوشامدی ہمارے چیف جسٹس کو بھی انہی القابات سے نوازنے کی ہمت رکھتے ہیں جو ہمیں دیئے جا رہے ہیں؟ ہم تو وہی پوچھ رہے ہیں جو چیف جسٹس صاحب نے پوچھا!

http://jang.com.pk/jang/mar2012-daily/19-03-2012/col4.htm

3 Responses to “Hamid Mir’s warning to Haroon-ur-Rasheed”

  1. Good riddance, General Pasha!
    Here’s a damning article on General Pasha by Hamid Mir. Of course Hamid Mir is paying back to Pasha because it was ISI which released secret tapes of Hamid Mir’s conversation with a Punjabi Taliban a few years ago. Hamid Mir himself is an MI loyalist thus the element of professional jealousy should also be kept in mind. (Of course, Mir will not write any such column against the commander of MI or the COAS because that would mean a violation of the chain of command.) Yet, it is hard to disagree with Mir’s views and analysis of Pasha’s performance.
    http://criticalppp.com/archives/74024

  2. Hamid Mir is doing good job

Trackbacks

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: