Shia scholar Allama Maqsood Domki condemns Baloch genocide by Pakistan army

by admin

Balochistan’s leading Shia scholar Allama Maqsood Domki Baloch has condemned the ongoing genocide of the Balochs by Pakistan army and its various agencies. Expressing unity with the Baloch nation, Allama Domki said that Pakistani State cannot expect to have a meaningful dialogue with the Baloch while at the same time pursing Pakistan army’s kill and dump policy. Allama Domki declared Rehman Malik as a dubious character whose loyalties do not lie with the people of Pakistan as is evident through his failure to stop the ongoing target killing of the Shias and Baloch people.

مسخ شدہ لاشوں کے تحفے دے کر بلوچ قیادت سے مذاکرات کی بات ایک مذاق ہے، علامہ مقصود ڈومکی

آزادی کا نعرہ لگانے والے سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کی جائے۔ پھر پہاڑوں پر بیٹھی ہوئی قیادت سے گفتگو کے لئے راہ ہموار ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے کے لئے قومی اسمبلی میں تیرہ نشستیں بلوچ عوام کی توہین ہے۔

بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تمام محب وطن قوتوں کو تشویش ہے۔ کیونکہ گزشتہ 65سالوں میں بلوچوں کی جانب سے حقوق کے مطالبے پر پانچ مرتبہ فوجی آپریشن کئے گئے، بلوچستان کا مسئلہ طاقت اور تشدد سے کبھی حل نہیں ہوا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ 65سالہ زخموں پر نمک پاشی کی بجائے مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ بلوچ خودار اور غیرت مند قوم ہیں جو دھمکیوں کی زبان نہیں سمجھتے انہیں عزت و احترام سے مذاکرات کی دعوت دی جائے۔

اسلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بلوچستان مسئلے کو حل کرنے کی بجائے بگاڑنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رحمان ملک اپنے مشکوک کردار کے باعث بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لئے سنجیدہ بلوچ سیاسی رہنما آگے لائے جائیں جن پر بلوچ قوم پرستوں کو بھی اعتماد ہو۔ کیونکہ بھٹو دور میں نواب نوروز خان کو مذاکرات کے نام پر قرآن کریم کی ضمانت دے کر پہاڑوں سے اتارا گیا اور پھر اسے پھانسی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل وعدہ خلافیوں، سیاسی کارکنوں کا اداروں کے ہاتھوں اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کے تحفے دے کر بلوچ قیادت سے مذاکرات کی بات ایک مذاق ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے لئے فضا سازگار بنانے کی ضرورت ہے جس کے لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ گرفتار اور لاپتہ سیاسی کارکنوں کو رہا کریں اور مسخ شدہ لاشوں کے سلسلے کو روکیں۔

مذاکرات کے سلسلے میں پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنما سینیٹر لشکری رئیسانی نے کہا تھا کہ میں بلوچ قیادت سے مذاکرات کی ذمہ داری لے سکتا ہوں بشرطیکہ مجھے مکمل اختیارات دیئے جائیں۔ بد قسمتی سے بلوچستان کا مسئلہ سیاسی قیادت کی بجائے ایسٹیبلشمنٹ اور مقتدر قوتیں حل کرنا چاہتی ہیں۔ مذاکرات کے سلسلے میں ان سیاسی قوتوں سے آغاز کیا جائے جو پاکستانی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچستان کے حقو ق کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔

علامہ ڈومکی نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں علیحدگی اور آزادی کا نعرہ لگانے والے سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کی جائے۔ اگر یہ مراحل کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر پہاڑوں پر بیٹھی ہوئی قیادت سے گفتگو کے لئے راہ ہموار ہو جائے گی اور بلوچستان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے کے لئے قومی اسمبلی میں تیرہ نشستیں بلوچ عوام کی توہین ہے۔ اس مختصر نمائندگی کے باعث ان کا ملک کی اقتدار میں کوئی قابل ذکر کردار نہیں بنتا۔

Source: Islam Times

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: