Some examples of how Saudi-ISI stooges infiltrate Shia media

by admin

سانحہ خانپور، گرفتار مبینہ دہشتگرد ماسٹر نواز کو پولیس نے 19 جنوری کو سکول جاتے ہوئے گرفتار کیا، ورثاء

اسلام ٹائمز:رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماسٹر نواز کے بھائیوں نے کہا کہ چھ سال قبل بھی دہشتگردی کے الزام میں نواز کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالت نے جرم ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کیا تھا۔

اسلام ٹائمز۔ سانحہ خانپور کے الزام میں گرفتار مبینہ دہشت گرد ماسٹر نواز کو پولیس نے 19 جنوری کو سکول جاتے ہوئے حراست میں لیا تھا، ان کا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، چھ سال قبل بھی دہشتگردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالت نے جرم ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کیا تھا، موجودہ دہشتگردی سے دور تک کا تعلق نہیں بلاوجہ ملوث کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار گرفتار مبینہ دہشت گرد ماسٹر محمد نواز کے حقیقی بھائیوں حافظ شاہنواز، محمد ایوب، محمد یعقوب اور حافظ محمد نیاز نے ڈسٹرکٹ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ خانپور میں ہونیوالی ہلاکتیں قابل افسوس ہیں، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کوئی مسلمان اپنے ہی بھائیوں کے خلاف بربریت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ سکول ماسٹر جو آنیوالی نسل کیلئے باپ کا درجہ رکھتا ہے کو دہشت گردی جیسے بڑے الزام میں گرفتار کرکے پولیس اپنی کوتاہیوں کو چھپانا چاہتی ہے، ان کے بھائی کو 19 جنوری کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنے بھائی گل محمد کے ہمراہ معمول کے فرائض کی انجام دہی کیلئے سکول جارہے تھے جبکہ پولیس نے ان کی گرفتاری کو تین روز قبل پاکستان چوک سے ظاہر کیا ہے جبکہ پاکستان چوک پر حقیقت معلوم کی جائے تو گذشتہ تین چار روز کے دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسٹر محمد نواز گذشتہ تین سالوں سے سکول میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا جس کا کسی تنظیم یا فرقے سے کوئی تعلق نہیں رہا، انہوں نے کہا کہ ماسٹر محمد نواز کو 28 مارچ 2006ء کو چوک بہادر پور کے نزدیک سے بس سے اتار کر حراست میں لیا گیا۔ اور بعد ازاں اسے 9 جون 2006ء کو ظاہر پیر کے علاقہ سے گرفتاری ظاہر کرکے اس کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور بم و خودکش جیکٹس برآمد کرنے کا دعویِ کیا تھا تاہم ماسٹر محمد نواز کو درج کئے جانیوالے دہشت گردی کے اس مقدمہ سے عدالت نے باعزت طور پر بری کیا تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

http://islamtimes.org/vdcau0n6i49ny61.zlk4.html

……..

سانحہ خانپور، پولیس افسران نے مضحکہ خیز ڈرامہ رچایا، جمعیت علماء اسلام
اسلام ٹائمز:فاع پاکستان کونسل جنوبی پنجاب کے رہنمائوں نے ایک مشترکہ کانفرنس میں کہا کہ یہ ڈراپ سین درحقیقت اصل ملزمان سے توجہ ہٹانے اور اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے رچایا گیا۔
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام س پنجاب اور دفاع پاکستان کونسل جنوبی پنجاب کے رہنمائوں مفتی محمد اسعد درخواستی، قاری خضر حیات، پروفیسر محمد محسن رحمانی، حافظ حسین احمد درخواستی اور مولانا شکیل احمد مدنی نے ایک مشترکہ کانفرنس میں خان پور سانحہ کے حوالہ سے اعلیِ پولیس افسران کی جانب سے مضحکہ خیز ڈراپ سین کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ڈراپ سین درحقیقت اصل ملزمان سے توجہ ہٹانے اور اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے رچایا گیا تاکہ افسران بالا کو اپنی نام نہاد کارکردگی سے متاثر کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نام نہاد ملزمان ماسٹر محمد نواز اور واجد کو دو ماہ قبل ان کے اداروں سے اٹھایا گیا جس کا ریکارڈ باقاعدہ طور پر اداروں میں موجود ہے، ماسٹر محمد نواز جن کو ماڈل ہائی سکول خان پور سے اٹھایا گیا وہاں حاضری رجسٹر میں ریکارڈ کے مطابق وہ دو ماہ سے غائب ہیں ان کے تمام سٹاف اور ادارہ کے سربراہان اور ملازمین اس بات کے گواہ ہیں۔

اسی طرح واجد کو علی پور کے ایک مستند مدرسہ سے اٹھایا گیا، جس کا ریکارڈ مدرسہ کے حاضری رجسٹر میں موجود ہے، اسی امر سے آر پی او بہاولپور عابد قادری کی قابلیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سانحہ خانپور کے موقع پر آر پی او نے پہلے یہ بیان دیکر کہ یہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ ٹرانسفارمر دھماکہ تھا متاثرین کی بہت زیادہ دل آزاری کی اور میڈیا کے نمائندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ہر مکتبہ فکر کی طرف سے اس غیر ذمہ داری پر تبصرے کیے گئے اب پھر دوسری مرتبہ آر پی او عابد قادری نے ملزمان کو گرفتار کرکے پریس کانفرنس کرکے ایک مضحکہ خیز ڈرامہ رچایا ہے کہ دو ماہ قبل غائب ہونے والے معصوم اور بے گناہ دو افراد کو ملزمان بنا کر میڈیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے، ایسے مضحکہ خیز اور بچگانہ عمل کرکے آر پی او اپنی غیر ذمہ داری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر بے گناہ افراد ماسٹر محمد نواز اور محمد واجد کو رہا کیا جائے اور واقعہ کے اصل ملزمان کا سراغ لگایا جائے تاکہ اصل ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں، انہوں نے جون 2006ء میں اسی طرح کے ایک مضحکہ خیز ڈراپ سین کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس موقع پر بھی شوشہ چھوڑا گیا تھا کہ خودکش جیکٹس بنانے کے ماسٹر مائنڈ گرفتار ہوگئے ہیں اس میں بھی ماسٹر محمد نواز کو بے گناہ ملوث کیا گیا بعد میں ہائی کورٹ نے ان کو باعزت رہائی دی پھر ایک بار 2012ء میں اس ڈراپ سین کو پولیس انتظامیہ نے دہرایا ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور عنقریب جمعیت علماء اسلام اس سلسلہ میں ایک احتجاجی ریلی نکالے گی

http://islamtimes.org/vdccsmqso2bq0s8.c7a2.html

……

نیٹو سپلائی اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس
اسلام ٹائمز:پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج سے شروع ہو چکا ہے، اس اجلاس کا مقصد پاک امریکہ تعلقات، نیٹو سپلائی کی بحالی پر پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر بحث اور آخر میں کمیٹی کی 35 سفارشات کو قرارداد کی صورت میں پیش کیا جائے گا، اس اجلاس کی کارروائی دیکھنے کیلئے امریکہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک کے سفراء نے درخواست دی جسے منظور کر لیا گیا اور دعوت نامے بھی جاری کردیئے گئے۔
تحریر: نادر بلوچ

کیا پاکستان ایک کمزور، ناتواں اور ڈگمگاتی ہوئی ریاست ہے جو اپنا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتی اور ہر معاملے میں امریکہ سے ڈکٹیشن لیتی ہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہے! کٹھ پتلی ریاستوں کا رویہ ایسا نہیں ہوتا۔ کیا یہ ناقابل ِ یقین انہونی نہیں کہ ہماری دو سرحدی چوکیوں پر امریکی افواج کے حملے، جس کے نتیجے میں 26 فوجی جوان شہید ہوئے، کے بعد پاکستان دنیا کی واحد سپرپاور کے سامنے تن کر کھڑا ہو گیا اور کئی معاملات پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، حتیٰ شمسی ائیر بیس بھی خالی کرا لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی نیٹو سپلائی روک دی گئی اور اس وقت ہزاروں کی تعداد میں نیٹو ٹینکرز بن قاسم پورٹ پر کھڑے ہیں، اب یہ امریکی ہیں جنہیں دانتوں پسینہ آ رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے مارک گراسمین معاملات کو سدھارنے کے لئے پاکستان آنا چاہتے ہیں مگر اُن کو بتایا گیا کہ اس کام کے لئے ابھی وقت مناسب نہیں اور وہ ابھی انتظار کریں، اس حوالے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ کئی مرتبہ یہ شوشا چھوڑ چکا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان اور افغانستان کیلئے نمائندہ خصوصی مارک گراسمین راوں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے، لیکن اس کے ساتھ ہی دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں ان خبروں کی نفی کر دی۔ ایک وقت تھا جب اسلام آباد کی فضائیں امریکی حکومتی عہدیداران کی خوشامد اور چاپلوسی کی صداؤں سے معمور تھیں لیکن اب دارالحکومت کا موسم بہت تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے

http://islamtimes.org/vdce7f8zwjh8ezi.dqbj.html

……..

سانحہ کوہستان کا ذمہ دار پاک ایران دوستی سے خائف امریکہ ہے، شیخ مرزا علی
اسلام ٹائمز : لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ جمعہ اسدی، شیعہ علماء کونسل گلگت بلتستان کے صدر نے کہا کہ کوئٹہ اور کوہستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں مماثلت ہے۔
اسلام ٹائمز ۔ شیعہ علما کونسل گلگت بلتستان کے صدر علامہ شیخ مرزا علی نے کہا ہے کہ سانحہ کوہستان کا ذمہ دار امریکہ ہے جو ایران اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی سے خائف ہے۔ لاہور سے اسلام ٹائمز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے شیعہ علما کونسل گلگت بلتستان کے صدر نے کہا کہ جو پاکستان کا دشمن ہے وہ ایران کا بھی دشمن ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور کوہستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں مماثلت ہے اور دونوں پاکستان کے دشمنوں کی کارروائیاں ہیں۔

شیخ مرزا علی نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو جمعرات کے روز سانحہ گلگت کے سلسلے میں آنا تھا مگر موسم کی خرابی کے باعث نہ پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ رحمان ملک ان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ حکومت نے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کی جمعرات تک مہلت مانگی تھی۔ جو ختم ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اکابرین ملت جعفریہ کو مطمئن نہ کرسکی تو احتجاج کی کال دی جائے گی۔

http://www.islamtimes.org/vdcg7t9qzak9tz4.,0ra.html

…….

امریکہ کی پاکستان میں نئی پالیسی
اسلام ٹائمز:دلچسپ امر یہ ہے کہ شیعہ مسلمان جانتے ہیں کہ ماضی میں جتنا بھی شیعہ مسلمانوں کا نقصان ہوا ہے اس کی تمامتر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ جتنے بھی ملزم پکڑے گئے انہوں نے طالبان، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کا کارکن ہونے کا اعتراف کیا۔ ان تینوں جماعتوں کی ڈوریاں امریکہ سے ہلتی تھی اور ہیں اس حوالے سے واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ماضی میں خود شیعہ مسلمانوں کو قتل کروا کر اب ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی امریکی پالیسی کچھ اہداف ضرور رکھتی ہے۔
تحریر:تصور حسین شھزاد

امریکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی بالخصوص اور دوسری اقوام کی بالعموم مشکلات کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے۔ یہی امریکہ دنیا بھر میں یہودیوں کی سرپرستی کا بھی ٹھیکہ دار ہے جب کہ کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہودیوں نے یرغمال بنا رکھا ہے اور اسے اپنے مفادات میں استعمال کرتے ہیں، امریکہ میں ایک طاقتور ترین یہودی لابی ہے جس کی اقتدار کے ایوانوں سے لے کر بازار کی دکانوں تک ہر جگہ اجارہ داری ہے۔

امریکہ نے جہاں مسلم دنیا پر زمین تنگ کر رکھی ہے وہاں اسے مسلم حکمرانوں سے بھی خدا واسطے کی دشمنی ہے۔ کوئی حکمران اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرے تو یہ اسے عبرتناک انجام سے دوچار کر کے دوسروں کو بھی خوف زدہ کرتا ہے کہ میری نہ ماننے والوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ جو اس کا پالتو ہو اور بعد میں اکڑ جائے اس کا انجام ایسا بناتا ہے، لیکن جو امریکہ کو پہلے ہی گھاس نہ ڈالے اور اپنے کردار کی طاقت پر ڈٹ جائے امریکہ اس کے سامنے بھیگی بلی بن جایا کرتا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کی دنیا میں مداخلت اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی پالیسیوں نے عوامی سطح پر امریکہ کے لئے نفرت کو فروغ دیا، جس کے باعث امریکہ کو احساس ہو ہی گیا کہ حکمرانوں کو خریدنے کیلئے ڈالرز ضائع کرنے کی بجائے عوام کے دلوں میں گھر کیا جائے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ’’سافٹ امیج پلان‘‘ تشکیل دیا گیا۔ اس منصوبہ پر آج سے 10 سال قبل عمل شروع ہوا اور اس وقت یہ منصوبہ تیزی سے اپنے مراحل طے کر رہا ہے۔

امریکہ کے اس منصوبے کے مطابق پاکستان میں عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرنے کے لئے سفارتی عملے کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ عوامی تقریبات میں شرکت کریں، لوگوں سے روابط بڑھائیں اور تجارت کی آڑ میں لوگوں سے میل ملاپ رکھیں تا کہ امریکہ کا ’’سافٹ امیج‘‘ عام لوگوں پر واضح ہو۔ اسی منصوبے کے پیش نظر سب سے پہلے مزاروں اور درباروں پر کام شروع کیا گیا۔ امریکی سفراء کو ہدایت کی گئی کہ وہ مزاروں پر جا کر حاضری دیں، چادریں چڑھائیں اور دربار کی انتظامیہ کی مالی امداد کریں تاکہ وہ دربار کی تعمیر و مرمت پر خرچ کر کے امریکہ کے شکر گزار بن سکیں۔

اسی مرحلے میں تمام درباروں پر عرس کروانے کے لئے متعدد درباروں کے گدی نشینوں کو ڈالرز دیئے گئے جس کے لئے اچ شریف کے ایک گدی نشین صاحب نے امریکہ کے لئے بہت کام کیا اور ڈھیروں ڈالرز لے کر مختلف گدی نشین پیر بھائیوں کو بانٹے اور امریکہ مردہ باد کو امریکہ زندہ باد کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد امریکہ نے اپنا دوسرا مرحلہ شروع کیا اس مرحلے میں وہ دہشتگرد جنہوں نے ملکی سلامتی کے خلاف قدم اٹھائے تھے اور افغانستان میں جا کر امریکہ کے لئے ’’جہاد‘‘ کا فریضہ ادا کیا تھا کل وہ امریکہ کے لئے دہشت گرد تھے لیکن اس منصوبے کے مطابق ان کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کی جائے اور ان کی مدد کی جائے۔

اب صورتحال کچھ اس طرح کہ لاپتہ افراد جن کو خفیہ اداروں نے دہشتگردی کے جرم میں حراست میں رکھا ہوا ہے ان کے لواحقین گزشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصہ سے اسلام آباد میں کیمپ لگائے حکومت کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو جو مبینہ دہشت گردوں کے اہل خانہ ہیں، کو اب این جی اوز اور امریکہ مظلوم بنا کر پیش کر رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کے حراست میں لئے گئے افراد بےگناہ ہیں اگر گناہگار ہیں تو ان کا عدالتوں میں ٹرائل کیا جائے۔ اس حوالے سے اہلحدیث اور دیوبندی مکتب فکر کے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں۔ اس تعاون اور ہمدردی کا مقصد اہلحدیث اور دیوبندیوں کے دلوں میں امریکہ کے لئے سافٹ امیج پیدا کرنا ہے۔

اس منصوبے کا تیسرا مرحلہ پاکستان میں بسنے والے اہل تشیع ہیں، اہل تشیع چونکہ دیگر مسلمان مکاتب فکر کی نسبت امریکہ کی مسلم کش پالیسی سے بہتر آگاہ اور بیدار ہیں اس لئے امریکہ نے ان پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں ایک عرصہ سے امریکی ایما پر ہی اہل تشیع مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ نے ماضی میں کبھی بھی اس کی مذمت نہیں کی لیکن اب آ کر این جی اوز، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امریکہ سمیت اس کے نمک خوار ادارے اور ’’سوسائٹیز‘‘ اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی قتل و غارت بند کی جائے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ شیعہ مسلمان جانتے ہیں کہ ماضی میں جتنا بھی شیعہ مسلمانوں کا نقصان ہوا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے کیوںکہ جتنے بھی ملزم پکڑئے گئے انہوں نے طالبان، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کا کارکن ہونے کا اعتراف کیا۔ ان تینوں جماعتوں کی ڈوریاں امریکہ سے ہلتی تھیں اور ہیں اس حوالے سے واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ماضی میں خود شیعہ مسلمانوں کو قتل کروا کر اب ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی امریکی پالیسی کچھ اہداف ضرور رکھتی ہے۔ امریکہ اگر پاکستان میں دودھ کی نہریں بہا دے، بے روزگاری اور غربت کا مکمل خاتمہ کروا دے اس کے باوجود اس کا امیج سافٹ نہیں ہو سکتا۔

http://www.islamtimes.org/vdci3pazvt1a552.s7ct.html

…….

Sunday 4 March 2012 05:57

سانحہ کوہستان ہمہ پہلو سازش ہے، لیاقت بلوچ
اسلام ٹائمز: شیعہ رہنمائوں سے ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ سانحہ کوہستان کے وہ عناصر ذمہ دار ہیں جو پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے، پاک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانے اور عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر عوام کو انجنئرڈ ایشوز پر لگا کر نیٹو فورسز کی سپلائی بحال کرانا چاہتے ہیں۔
اسلام ٹائمز۔ لیاقت بلوچ سے ان کی رہائش گاہ پر شیعہ قومی رہنماؤں پیر نو بہار شاہ اور نواب سرفراز سیال نے ملاقات کی۔ اس موقع پر سانحہ کوہستان پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ سانحہ کوہستان ہمہ پہلو سازش ہے اور وہ عناصر ذمہ دار ہیں جو پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے، پاک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانے اور عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر عوام کو انجنئرڈ ایشوز پر لگا کر نیٹو فورسز کی سپلائی بحال کرانا چاہتے ہیں۔ رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ سازشوں کے مقابلہ پر جماعت اسلامی ملی یکجہتی کونسل طرز پر مسالک کے درمیان محبت، اتحاد اور امن پیدا کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔

درایں اثنا جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 4 مارچ بروز اتوار ملک بھر میں تیل، گھی، بجلی، گیس، ایل پی جی اور کرایوں میں اضافہ کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ تمام صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی ہیڈکوارٹرز پر مزدور، طلبہ، نوجوان اور مظلوم عوام پر امن مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں گے۔ پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے دور اقتدار میں نہ روٹی نہ کپڑا نہ مکان کے اقتصادی فلسفہ پر کام کیا گیا ہے۔ چار سالوں میں قرضے دوگنا، کرپشن چار گنا اور تیل، گیس، بجلی کی قیمتوں میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس صورتحال کی ذمہ داری جہاں پیپلز پارٹی اور حکومت کی شریک جماعتوں پر عائد ہوتی ہے وہیں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی دعویدار جماعتیں بھی برابر کی ذمہ دار ہیں۔ ملک میں موجودہ حکومت اور عوام کی خوشیاں اکٹھی نہیں چل سکتیں۔

http://karachiupdates.com/v3/2009-07-02-19-22-00/7-khabrain/12739-muhammad-rizvi.html

……..

2012/03/14 – 15:08 source: IVN print

Shia Mosque Burning: Another European Islamophobia Incident

An imam was martyred in Belgium yesterday when his mosque was set on fire in the country’s capital of Brussels, seen widely as the capital of the European Union. A suspect was seen throwing a Molotov cocktail at the Shia mosque in the city. The suspect is now in police custody; his name has yet to be released.

(Ahlul Bayt News Agency) – While this does appear to be an isolated incident, it’s a sign of Islamophobia that’s been on the rise in Europe due to the increased amount of immigration from North and West African countries.

Current trends mark Europe’s first time receiving a major migration of non-European peoples since the barbarian invasions of 5th century AD, and it’s brought with it all the cultural issues that worlds colliding brings. At the heart of it is Europeans’ identities of themselves being thrown into question and coming up against rival sets of identities from different backgrounds than their own.

French President Nicolas Sarkozy framed it as “French civilization must prevail in France” in his re-election campaign. Similar rhetoric seems to be a rallying sentiment that many in Europe are drawn to, as more and more immigrants arrive at their shores from Africa and the Near East.

Complicating the affair is a centuries old rivalry with Islam, which is now entering into Europe in progressively larger waves. Islam may have been halted militarily at the Battle of Tours in 732 AD, and again in 1683 at Vienna, however it is now entering Europe peaceably. As a result, it’s prevalence is leaving those who still see Europe as being Christendom itself, feeling under attack by Islamic jihad.

According to Anders Breivik, the man behind the July 2011 killings in Norway, European and Islamic relations are a constant struggle of Islam to enslave and subjugate Europe. Meanwhile the Crusades were a gallant war that took the fight to the Muslims in their own lands. It’s these kinds of interpretations of history and sociology, that have helped galvanize anti-immigration and anti-Islamic sentiment in Europe, and have no doubt, contributed to yesterday’s fire bombing of a mosque, in which one man, was martyred.

Just consider our own selves fortunate here in America that we have such a long, if not imperfect, history of taking in new cultures and new peoples with relative stride.

http://www.abna.ir/data.asp?lang=3&id=302613

……..

امریکی فوج کا قرآن پاک کی بے حرمتی کرنا یہودی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، محمد رضوی
ہفتہ, 25 فروری 2012 13:31
کراچی، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی ڈویژن کے صدر برادر محمد رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے شہر بگرام میں امریکی اور نیٹو افواج کا قرآن پاک کی بے حرمتی کرنا یہودی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ مسلمانان عالم کو چاہئے کے وہ یہودیوں کے اس اقدام کی مخالفت کریں اور ان سے ہر قسم کے تعلق کو ختم کردیں ۔امریکی اور نیٹو افواج دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں لیکن مسلمان ممالک کے حکمران پھربھی ان سے تعلقات رکھتے ہیں

http://karachiupdates.com/v3/2009-07-02-19-22-00/7-khabrain/12739-muhammad-rizvi.html

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: