Shias of Pakistan, from 23 March 1940 to 23 March 2012

by admin

آج پاک دھرتی کا ماتھا اپنے فرزندوں کے لہو سے داغدار ہے

دنیا کی پہلی اسلامی نظریاتی ریاست پاکستان ۔ ۔ ۔ اور اس دھرتی کا بانی و محسن مکتب تشیّع کا عظیم فرزند محمد علی جناح ۔ ۔ ۔ اور اسکی بنیادوں میں لاکھوں وفاپرست شیعہ ، سنی بریلوی، احمدی شھیدوں کا لہو ۔ ۔ ۔ آج بھی پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ سعودی ریالوں اور خلیجی درہموں کی دکانوں پر انتہائی کم قیمت پر بک جانے والو سنو ! تم نے جہادی سلفی وہابیت کے شیطانی اداروں کو اپنے محسنوں اور اپنے عوام پر فوقیت کیوں دی؟

اے مملکت خداد پاکستان پر قابض شیطانو! سعودی ایماء پر پاک وطن میں فرقہ واریت کی بنیاد ڈالنے والے ضیاء الحق کے فرزندو!! ملک کی خفیہ ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھ کر شیعہ نسل کشی کی منصوبہ بندی کرنے والو

کیوں تم نے آج اپنے محسنوں کے احسان بھلا دئیے؟ کیوں آج تم چند ریالوں , درھم اور دینار کی خاطر اپنے ہی وطن کے شیعہ مسلمانوں اور سنی بریلوی مسلمانوں اور دیگر مظلوم گروہوں کی نسل کشی پر آمادہ ہوں؟ کیوں تم ان کے آلہ کار بن گئے ہو جنہوں نے نواسئہ رسول پاک (ص) کے روضہ کو مسمار کیا۔ خانہ کعبہ اور روضہ رسول (ص) کے احترام کو شرک سے تعبیر کیا۔ قبر اصحاب رسول اور سب بے بڑھ کر یہ کہ دختر رسول کی قبر کے ساتھ گستاخی کی۔ اور آج پاکستان میں اسی آل سعود کی تلوار سپاہ صحابہ ، دفاع پاکستان کونسل اور طالبان کی شکل میں ھماری گردن پر چل رھی ہیں۔

آج پھر پاکستان میں بنو امیہ اور بنو عباس کی دھشتگردی عروج پر ہے۔ اربوں روپیہ سے چلنے والے وہ انتہا پسند دیوبندی مدارس مدارس جو جہادی سرگرمیوں کی آڑ میں شیعہ نسل کشی میں شریک ہیں۔ ھمارے حکمران بھی کشکول تھامے انہی کے در کے بھکاری بن چکے ہیں جن کے محلات میں شیعہ نسل کشی کے منصوبہ بنائے جاتے ہیں۔

یاد رھے اس ملک میں نہ ہی شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ تھا، نہ کوئی مسئلہ ہی، بس چندجہادی فرقہ وارانہ گروہ جن کو سعودی عرب اور پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں کی سرپرستی حاصل ہے شیعہ نسل کشی میں ملوث ہیں۔ وہی جو قائد اعظم کو کافر اعظم کہاں کرتے تھے آج اپنی کشتی کو ڈوبتا دیکھ کر دفاع پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں۔ جنہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے کچھ افراد کی بھرپور حمایت حاصل ہیں۔

اے پاک دھرتی کے غدارو سن لو!! تم یزیدی عزائم پر چلتے رہوں ھم یا حسین یا حسین کرتے رھے گے۔ ھمارا ایمان ہے کہ یہ وطن پنجتن کا صدقہ ہی۔ جس کی جنگیں نعرہ حیدری لگا کر جیتی گئی ہیں۔جس کو آج یہ ذکر گوارا نہیں وہ ھمارا نہیں، نہ اسلام کا، اور نہ ہی پاکستان کا۔

http://pakshia.com/ur/shia-killing-pakistan/pakistan-shia-nation/

His son, only 17, was killed a few days ago. He survived the attack. He remembers Imam Hussains’ son:
Shaheed Akmal Rizvi Father Mohsin Rizvi Recite Nuha : Hai Hai Ali Akbar

One Trackback to “Shias of Pakistan, from 23 March 1940 to 23 March 2012”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: