Posts tagged ‘BBC Urdu’

August 22, 2012

Please defend BBC Urdu and the Axis of Holiness troika – by Riaz Malik Hajjaji

by admin

If you don’t know this yet, know it now

BBC Urdu along with Jang Group and Dharb-e-Momin is part of every ghairatmand’s Axis of Holiness.

These are the media outlets that in their own ways project the

read more »

December 27, 2010

BB's Assassination: A Strategic Murder – by Hasan Mujtaba

by admin

ڈاکٹر سکندر نیویارک میں ٹیکسی چلا رہے تھے جب ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو پارک ایوینیو پر انہیں پاکستان سے ان کی بیٹی نے فون پر بتایا کہ بینظیر کو قتل کردیا گيا ہے۔ ڈاکٹر سکندر نے وہاں ٹیکسی کھڑی کی، وہ سکتے کے عالم میں آگۓ اور آنے والے چند دن انہہوں نے دل پر سٹریس کے مریض کے حیثیت سے ہسپتال میں گذارے۔

پاکستان اور پاکستان سے باہر ایسے لوگ ہزاروں اور لاکھوں میں ہونگے جن پر بینظیر بھٹو کے قتل کی سونامی جیسی خبر کی لہر گزر گئی تھی۔ بالکل ایسے جیسے استاد دامن نے فیض احمد فیض کی موت پر کہا تھا ’ساڈے اتے قیامتاں گذرگئياں نے۔‘

بینظیر بھٹو جنھیں جب ان کے دوستوں نے نیویارک میں کہا تھا کہ وہ پاکستان مت جائيں جہاں انکی زندگي کو سخت خطرہ ہے تو انہوں نے اسے مذاق میں ٹالتے ہوئے کہا تھا کہ ’نیویارک میں تیز رفتار ٹیکسی کے نیچے آکر بھی تو مرسکتی ہوں‘۔ انھوں نے ضیاء الحق کی موت پر کہا تھا ’خدا کا شکر ہے ہم میں سے بہت سوں کے سروں سے موت ٹل گئي‘۔

لیکن موت ٹلی نہیں۔

پاکستان کی دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا تجزیہ یہ ہے کہ ’بینظیر کا قتل سٹریٹجک قتل تھا‘

پندرہ اپریل دو ہزار دس کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں بینظیر بھٹو کے قتل کے حالات و حقائق جاننے کیلیے پاکستان کی موجودہ حکومت کی درخواست پر قائم کی جانیوالی کمشین کی رپورٹ پبلک کیے جانے والے دن یو این میں پاکستان کے مستقل سفیر حسین عبداللہ ہارون کو اقوم متحدہ میں پریس کانفرنس کرنا تھی۔

وہ پریس کانفرنس منٹوں اور گھنٹوں کے التوا کے بعد آخر کار ہمیشہ کیلیے ملتوی کردی گئي۔ یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ جس دن اقوام متحدہ کی طرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کے حالات و حقائق پر مبنی رپورٹ کا اعلان ہونا تھا اس دن پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی امریکی دورے پر نیویارک میں موجود تھے۔

بینظیر بھٹو کمیشن جسکے سربراہ چلی کے ہیرالڈو منوز تھے جو نہ صرف چلی کے سابق سینیئر سفارتکار تھے بلکہ گیار ستمبر انیس سو تہتر کو فوجی آمر اگسٹو پنوشے کے ہاتھوں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے وقت ہلاک ہونیوالے صدر سلواڈور آلیندے کے قریبی ساتھی کے طور وہ انکے ساتھ کام بھی کرچکے تھے۔

چلی اور پاکستان جیسے ایک ہی قسمت والے دیسوں میں کتنی مماثلت ہے اور اسی لیے شاید لاس ایجنلیس ٹائمز نے سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو اپنے ایک اداریے میں پاکستان کا پنوشے قرار دیا تھا۔ اور دونوں آمروں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت ایک جسی خوش قسمتی اور پروٹوکول پایا۔

بشکریہ: بی بی سی اردو